ویانا، 9 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے توانائی و بنیادی ڈھانچہ، سہیل بن محمد المزروعی نے اوپیک اور اوپیک پلس کے فریم ورک میں یو اے ای کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک تنظیم کے تمام فیصلوں کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ عالمی تیل منڈی میں توازن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے ویانا میں منعقدہ نویں اوپیک انٹرنیشنل سیمینار کے موقع پر وام سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کی قیادت نے ایک دور اندیش پالیسی اختیار کی ہے، جس کے تحت ملکی پیداوار کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
سہیل المزروعی نے وضاحت کی کہ یہ اضافی پیداواری صلاحیت ضرورت کے وقت مارکیٹ میں لائی جائے گی تاکہ مانگ کے مطابق رسد کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف قیمتوں میں استحکام کا باعث بنے گا بلکہ عالمی منڈی میں توازن کے قیام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اوپیک کی منڈیوں میں مرحلہ وار واپسی سے قیمتوں میں کسی قسم کی منفی تبدیلی نہیں آئی، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ تنظیم اور اس کے شراکت دار مارکیٹ کی ضروریات سے مکمل طور پر باخبر ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اوپیک پلس میں شامل ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات، اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں تنظیم کا مارکیٹ میں حصہ مزید بڑھے گا۔
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ تیل کی پیداوار میں جو مرحلہ وار اضافہ کیا جا رہا ہے، وہ منصوبہ بندی کے تحت ہے اور اس سے مارکیٹ میں استحکام کو فروغ ملا ہے۔ قیمتوں میں معمولی اضافہ اس بات کا غماز ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی طلب میں بہتری آئی ہے۔
سہیل المزروعی نے اوپیک پلس کے اس کلیدی کردار کو سراہا جو وہ عالمی تیل منڈی کے استحکام میں ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اتحاد ایک مؤثر اور فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔‘‘
اختتاماً انہوں نے بتایا کہ متعلقہ وزراء اور کمیٹیاں ماہانہ بنیادوں پر ملاقات کرتی ہیں، جہاں مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اجتماعی فیصلے کیے جاتے ہیں، تاکہ انفرادی نہیں بلکہ مجموعی طور پر فیصلے کیے جا سکیں۔