یورپی یونین کا فیصلہ امارات کے مالی و اقتصادی تحفظ کی قومی کوششوں کا اعتراف: حمید سیف الزابی

ابوظہبی، 10 جولائی، 2025 (وام) --نیشنل اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی تنظیموں کی مالی معاونت کمیٹی ‘NAMLCFTC’ کے سیکریٹری جنرل اور نائب چیئرمین حمید سیف الزابی نے متحدہ عرب امارات کا یورپی یونین کی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست سے اخراج کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف بین الاقوامی فہرستوں سے اخراج کے لیے نہیں بلکہ ایک جامع اور پائیدار قومی نظام کے قیام کی غمازی ہے جس پر امارات مستقل بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔

ایمریٹس نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے الزابی نے بتایا کہ یورپی پارلیمان کا اعلان اس بات کا مظہر ہے کہ متحدہ عرب امارات نے عالمی مالیاتی و اقتصادی نظام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کیے ہیں، اور ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت 'NAMLCFTC' اور اس کے سیکریٹریٹ کی قیادت میں کی جانے والی منظم اور مربوط کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں عوامی و نجی شعبوں کی مکمل شراکت داری شامل ہے۔

الزابی نے اس بات پر زور دیا کہ امارات نہ صرف اپنا نظام بہتر بنا رہا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دے رہا ہے، تاکہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل رہے جو مالیاتی جرائم سے اپنے نظام کو محفوظ رکھتے ہیں۔

انہوں نے انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردی مالی معاونت کی قومی حکمت عملی کی نگرانی کرنے والی اعلیٰ کمیٹی کے اہم کردار کی بھی تعریف کی، جس کی قیادت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے، عملی اقدامات کے ذریعے قومی کوششوں کی رہنمائی کر رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2024 میں کابینہ سے منظور شدہ قومی حکمت عملی ایک واضح اور مربوط لائحہ عمل پر مبنی ہے، جس میں ہر ادارے کے لیے مخصوص ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں۔ الزعابی نے نجی شعبے کے کردار کی بھی تعریف کی جو اب خطرات سے آگاہ ہے اور انسداد مالیاتی جرائم کے فریم ورک کو کامیاب بنانے میں مکمل معاون ہے۔

مزید بتایا گیا کہ رواں سال کے دوران مختلف ورکشاپس، آگاہی مہمات اور قانونی و ضابطہ جاتی اصلاحات کے ذریعے حکمت عملی کو مزید تقویت دی گئی ہے، جبکہ 2025 میں قانون سازی میں مزید پیش رفت کی توقع ہے جو نظام کو مزید مؤثر اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے گی۔

الزابی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں مالیاتی جرائم کے خلاف واضح اور سخت قوانین نافذ ہیں جو نہ صرف اس کی شفافیت کو بڑھاتے ہیں بلکہ اسے سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک بھی بناتے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا، خاص طور پر یورپی ممالک کے ساتھ، تاکہ معلومات کا تبادلہ، مشترکہ کارروائیاں، تربیت اور علم کی منتقلی جاری رہ سکے۔ ان کے مطابق، ڈیجیٹل لین دین اور ورچوئل اثاثہ جات کے بڑھتے استعمال نے مالیاتی جرائم کے نئے طریقوں کو جنم دیا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر اشتراک ناگزیر ہو گیا ہے۔

حمید سیف الزابی نے قومی سطح پر قیادت سازی اور استعداد کار میں اضافے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی، جن میں ادارہ جاتی اشتراک، سروے، آگاہی مہمات اور تربیتی پروگرام شامل ہیں تاکہ بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام فریقین تیار رہیں۔

واضح رہے کہ یورپی پارلیمان کے اس فیصلے سے امارات اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی مذاکرات کو تقویت ملے گی، جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں تین فیصد اضافہ اور مالیاتی اداروں کے لیے بین الاقوامی لین دین میں آسانی متوقع ہے، جس سے ملک کی ساکھ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔