نیویارک، 10 جولائی، 2025 (وام) --اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن ہانس گنڈبرگ نے بحیرہ احمر میں حوثی گروپ کی جانب سے حالیہ حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں میں 8 جولائی کو تجارتی جہاز ‘ایم وی ایٹرنیٹی سی’پر حملہ شامل ہے، جس کے نتیجے میں جہاز غرق ہو گیا، کئی افراد جاں بحق، زخمی اور لاپتہ ہو گئے۔
خصوصی بیان میں گنڈبرگ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا، زخمیوں کی جلد صحتیابی اور لاپتہ افراد کی بحفاظت واپسی کی دعا کی۔
انہوں نے اس حملے کے ساتھ ساتھ 6 جولائی کو تجارتی جہاز ‘ایم وی وربینا’ (میجک سیز) کی تباہی پر بھی اقوام متحدہ کی جانب سے شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات نہ صرف شہری جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں بلکہ بین الاقوامی جہازرانی اور علاقائی استحکام کے لیے بھی سنجیدہ خدشات پیدا کر رہے ہیں۔
گنڈبرگ نے یاد دلایا کہ تجارتی جہازوں پر حملے بین الاقوامی بحری قوانین اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2722 (2024) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نیویگیشن کی آزادی کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان حملوں کے باعث سمندری آلودگی سمیت شدید ماحولیاتی نقصان اور دیگر وسیع نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نمائندے نے حوثی گروپ سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کرے جو یمن اور خطے میں کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بحیرہ احمر میں دشمنی کے خاتمے کے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے حوثی گروپ کو طویل مدتی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنی چاہیے، تاکہ اس اہم سمندری راستے سے وابستہ عالمی برادری کے مفادات محفوظ رہیں۔