جنیوا، 12 جولائی، 2025 (وام) --اقوامِ متحدہ کی مختلف ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ایندھن کی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال شدید انسانی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (OCHA)، عالمی ادارہ خوراک (WFP)، عالمی ادارہ صحت (WHO)، اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین (UNRWA)، اور ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی بند رہی تو غزہ کے دو ملین سے زائد شہریوں کو اسپتالوں، تندوروں، پانی کی فراہمی کے نیٹ ورکس اور ایمبولینس سروسز کی سہولت میسر نہیں رہے گی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے شہری پہلے ہی شدید مشکلات، خوراک کی عدم دستیابی اور روزمرہ کی بنیادی سہولیات سے محرومی کا شکار ہیں، اور اگر ایندھن مکمل طور پر ختم ہو گیا تو قحط کے دہانے پر کھڑی آبادی کو ناقابلِ برداشت بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی کو یقینی نہ بنایا گیا تو انہیں اپنی تمام امدادی سرگرمیاں بند کرنا پڑیں گی، جس سے تمام بنیادی خدمات براہ راست متاثر ہوں گی۔