ابوظہبی، 13 جولائی، 2025 (وام)--الظفرہ ریجن میں حکمران کے نمائندے اور ماحولیاتی ادارہ ابو ظہبی ‘EAD’ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین، عزت مآب شیخ حمدان بن زاید النہیان نے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے ملنے والی مسلسل حمایت اور رہنمائی کو زبردست سراہا ہے، جس کے نتیجے میں ادارہ ماحولیات نے کئی اسٹریٹجک منصوبوں اور اقدامات کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
یہ بات شیخ حمدان نے 'EAD' کے صدر دفتر کے دورے کے دوران کہی، جس موقع پر شیخ حزعہ بن حمدان بن زاید النہیان، ادارے کی مینیجنگ ڈائریکٹر رزان خلیفہ المبارک، الظفرہ میں حکمران کے نمائندے کی عدالت کے انڈر سیکریٹری ناصر محمد المنصوری، اور سیکریٹری جنرل ڈاکٹر شیخہ سالم الظاہری بھی موجود تھے۔
شیخ حمدان بن زاید نے ادارے کی اس شاندار کارکردگی پر مبارکباد دی، جس کے تحت پائیدار ماہی گیری کا اشاریہ 2018 میں 8.9 فیصد سے بڑھا کر 2024 کے اختتام تک 97.4 فیصد تک پہنچا دیا گیا — جو دنیا بھر میں اس شعبے میں ابوظہبی کو سرفہرست مقام پر لے آیا ہے۔
یہ کامیابی عالمی معیار کے اقدامات کے ذریعے ممکن ہوئی، جن میں پائیدار ماہی گیری کے لیے مخصوص آلات کا استعمال، تفریحی ماہی گیری کا مؤثر انتظام، اور "شیخ زاید پروٹیکٹڈ ایریاز نیٹ ورک" کے تحت چھ سمندری محفوظ علاقے قائم کرنا شامل ہیں تاکہ ماہی گیری کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔
ادارہ ماحولیات نے ابو ظہبی میں پائیدار آبی کاشتکاری 'Aquaculture' کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔ اس ضمن میں "ابو ظہبی مرجان باغات" منصوبے کے تحت مرجان کی افزائشِ نو اور مصنوعی ڈھانچوں کی تنصیب جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔
دورے کے دوران ادارے کی ٹیم نے عزت مآب کو "دلما فِش پروجیکٹ" کے بارے میں بھی بریف کیا، جو سمندری پنجروں میں مقامی مچھلی کی پرورش کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا ہے جس میں آبی کاشتکاری میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال شامل ہے۔
اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مچھلیوں کی اقسام، ان کے سائز اور وزن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو اعداد و شمار کی درستگی اور ماہی گیری کے شعبے کی پائیدار ترقی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
شیخ حمدان بن زاید النہیان نے دورے کے اختتام پر ادارے کے ترقیاتی وژن، جدت پر مبنی پالیسیوں، اور شراکت داروں، ماہی گیروں اور کمیونٹی کے ساتھ قریبی تعاون کو سراہا، اور ماحولیاتی پائیداری، بالخصوص ماہی گیری کے ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ادارے کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔