جزیرہ سوکوٹرا پر امارات اور عالمی ادارہ صحت کا طبی جائزہ مکمل، آئندہ مرحلے کی تیاری

سوکوٹرا، 14 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات اور عالمی ادارہ صحت کی فیلڈ ٹیموں نے یمن کی وزارتِ صحت و آبادی کے ساتھ قریبی اشتراک کے تحت سوکوٹرا جزیرے پر طبی صورتحال کا پہلا بنیادی جائزہ مکمل کر لیا ہے۔

یہ جامع سروے مئی کے آخر میں شروع ہوا تھا اور اس کا دورانیہ ایک سال پر مشتمل ہے، جس میں چار طے شدہ فیلڈ دورے شامل ہوں گے۔ جائزے کا یہ پہلا مرحلہ ایک طویل المدتی پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد آئندہ دو سے پانچ سال کے دوران صحت اور غذائی قلت سے ہونے والی اموات میں 20 فیصد تک کمی لانا ہے، تاکہ صحت کے نظام کو مربوط اور مؤثر انداز میں مضبوط کیا جا سکے۔

اس ابتدائی سروے کے دوران سوکوٹرا کی 29 ذیلی تحصیلوں میں واقع 38 دیہات میں جائزہ لیا گیا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق، ہدف بنائی گئی 93 فیصد طبی سہولیات کا معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

گھرانوں کی فہرست سازی کے دوران مجموعی طور پر 4,214 گھروں سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ فیلڈ ٹیموں نے 930 سے زائد سرپرستوں کے انٹرویوز کیے اور منتخب بچوں و ماؤں کی جسمانی پیمائش 'anthropometry' بھی کی، جو ابتدائی ہدف سے زائد تھیں۔ اس کے علاوہ، مختلف کمیونٹی گروپس کے ساتھ 12 فوکس گروپ ڈسکشنز کا انعقاد بھی کیا گیا۔

متعلقہ حکومتی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں سے 15 کلیدی انٹرویوز کیے گئے، جو منصوبے کا اہم جزو تھے، اور تمام طے شدہ ہدف مکمل کیے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ، 546 مریضوں سے "کلائنٹ ایگزٹ انٹرویوز" بھی کیے گئے تاکہ فراہم کی جانے والی طبی خدمات پر ان کا فیڈبیک حاصل کیا جا سکے، جو کہ ابتدائی ہدف سے بڑھ کر تھا۔

اب یہ منصوبہ ڈیٹا کی صفائی، تصدیق اور تجزیے کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ اس عمل کے بعد ایک حتمی رپورٹ تیار کی جائے گی جو ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی موجودہ حالت، طبی سہولیات کی کارکردگی اور ایمرجنسی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری سے متعلق تفصیلات فراہم کرے گی۔ یہ رپورٹ اگلے مراحل کی منصوبہ بندی کے لیے بنیاد فراہم کرے گی تاکہ اقدامات حقیقی کمیونٹی ضروریات اور صحت مراکز کی ترجیحات کے مطابق ہوں۔

منصوبے کے آئندہ مراحل میں طبی و غیر طبی ساز و سامان کی فراہمی، ماہرین کی بھرتی و تعیناتی، فنی تربیتی پروگرامز، اور کمیونٹی آگاہی مہمات شامل ہیں، جنہیں عالمی ادارہ صحت، وزارتِ صحت و آبادی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں نافذ کیا جائے گا۔

یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کی "ڈیٹا پر مبنی انسانی ہمدردی کی پالیسی" کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے پائیدار اثرات مرتب کرنا اور پسماندہ طبقات میں صحت کے اشاریے بہتر بنانا ہے۔