دبئی، 14 جولائی 2025(وام)--فیڈرل ٹیکس اتھارٹی (ایف ٹی اے) کی انسپکشن ٹیم نے حالیہ کارروائی کے دوران دبئی میں ایک گودام سے بھاری مقدار میں ممنوعہ ایکسائز اشیاء ضبط کی ہیں۔ یہ اشیاء دھوکہ دہی سے پیک کی گئی تھیں اور انہیں ملبوسات اور جوتوں کی آڑ میں متحدہ عرب امارات کی مارکیٹ میں اسمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ایف ٹی اے کے مطابق یہ کارروائی ٹیکس چوری کے خلاف مسلسل جاری اقدامات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس کے نظام کو مؤثر بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔ چھاپے کے دوران برآمد کی گئی اشیاء میں سگریٹ، الیکٹرانک سگریٹ کے آلات، کچا تمباکو، شیشہ تمباکو، نکوٹین پاؤچز اور ایکسائز مشروبات شامل تھے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 35 لاکھ سے زائد غیر قانونی اشیاء ضبط کی گئیں۔ ان میں 15 لاکھ 60 ہزار سگریٹ کے پیکٹس، 17 لاکھ 70 ہزار الیکٹرانک سگریٹ اور ان کے لوازمات، 1 لاکھ 11 ہزار 360 پیکٹس کچا تمباکو، 4 ہزار پیکٹس شیشہ تمباکو، 121 نکوٹین پاؤچز اور 4 ہزار 600 ایکسائز مشروبات کے پیکٹس شامل ہیں۔
ایف ٹی اے کے بیان کے مطابق ان اشیاء پر لاگو ہونے والا مجموعی ٹیکس 133.2 ملین درہم (تقریباً 13 کروڑ 32 لاکھ درہم) بنتا ہے، جس کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ ضبط شدہ اشیاء کو مستقل طور پر ضبط کر لیا گیا ہے جبکہ مکمل ٹیکس جائزہ لینے کے بعد بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔
ایف ٹی اے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ کارروائی مقامی اور وفاقی اداروں کے باہمی اشتراک سے ملک گیر نگرانی کا حصہ ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر درآمد کنندگان، تیار کنندگان اور اسٹاک رکھنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ فیڈرل قانون نمبر 7 برائے 2017 اور اس میں کی گئی ترامیم کے مطابق تمام ٹیکس ضوابط کی مکمل پاسداری کریں تاکہ جرمانوں اور دیگر قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ایف ٹی اے نے مزید وضاحت کی کہ ٹیکس چوری کے خلاف جنگ میں عالمی معیارات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جدید ترین الیکٹرانک نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تمباکو اور اس سے متعلقہ مصنوعات پر ڈیجیٹل ٹیکس اسٹیمپ کا نظام بھی شامل ہے، جس کے تحت ہر اسٹیمپ میں الیکٹرانک طور پر اندراج شدہ معلومات شامل ہوتی ہیں جن کی تصدیق انسپکٹرز کرتے ہیں۔
اتھارٹی نے یہ بھی دوہرایا کہ وہ ملک بھر میں ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے وفاقی اور مقامی حکومتوں کے ساتھ بھرپور ہم آہنگی اور تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔