انقرہ، 16 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان اور جمہوریہ ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب اردوان نے آج دونوں ممالک کے مابین اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک کونسل کے پہلے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ یہ اجلاس انقرہ میں صدرِ امارات کے سرکاری دورے کے موقع پر منعقد ہوا۔
اجلاس کے دوران دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، جو قومی ترجیحات اور باہمی مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔ اس ضمن میں متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے مابین جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔
صدر اردوان نے شیخ محمد بن زاید النہیان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے ایک مثبت اور اہم قدم قرار دیا۔
مذاکرات میں یو اے ای-ترکیہ تعلقات میں ہونے والی پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا، بالخصوص معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، صنعت، قابلِ تجدید توانائی اور غذائی تحفظ جیسے شعبے زیرِ غور آئے، جنہیں دونوں ممالک کی پائیدار ترقی کا بنیادی محرک قرار دیا گیا۔
اجلاس میں متعدد علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جن میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال پر خاص توجہ مرکوز رہی۔ دونوں فریقین نے خطے میں امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور اسے آئندہ نسلوں کے لیے ترقی اور بہتر مستقبل کی بنیاد قرار دیا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی اور عالمی بحرانوں کا حل صرف مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے، اور یہی طریقہ تمام اقوام و اقوامِ عالم کے مفادات کا ضامن بن سکتا ہے۔
شیخ محمد بن زاید النہیان نے ترکیہ کے ساتھ اماراتی تعلقات کو باہمی احترام اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے اسٹریٹجک کونسل کو دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سنگِ میل اور باقاعدہ مشاورت و مکالمے کا مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا، جو باہمی دلچسپی کے تمام امور پر گفتگو کو فروغ دیتا ہے۔
صدر اردوان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں، تاکہ دونوں ممالک کے مفادات کو تقویت دی جا سکے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اجلاس کے بعد صدر اردوان نے اماراتی صدر اور اُن کے ہمراہ آئے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا۔
اجلاس اور ظہرانے میں شرکت کرنے والے سرکاری وفد میں نمایاں شخصیات شامل تھیں، جن میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل شیخ سیف بن زاید النہیان، صدارتی امور کے نائب چیئرمین شیخ حمدان بن محمد بن زاید النہیان، شیخ زاید بن محمد بن زاید النہیان، صدر کے مشیر شیخ محمد بن حمد بن تحنون النہیان، وزیرِ صنعت و جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر، وزیرِ سرمایہ کاری محمد حسن السویڈی، وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور محمد بن مبارک بن فاضل المزروعی، وزیرِ مملکت شیخ شخبوت بن نہیان النہیان اور خلیفہ شاہین المرر شامل تھے۔
مزید برآں، صدر کے مشیر برائے اسٹریٹجک تحقیق و جدید ٹیکنالوجی فیصل عبدالعزیز البنائی، صدارتی دفتر برائے اسٹریٹجک امور کے چیئرمین اور ابوظہبی ایگزیکٹو آفس کے سربراہ ڈاکٹر احمد مبارک المزروعی، سیاسی امور کی معاون وزیر لانا زکی نسیبہ، وزیرِ خارجہ کے ایلچی سلطان المنصوری، ترکیہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر سعید ثانی الظاہری، قومی مرکزِ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبداللہ المندوس اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وفد کا حصہ تھے۔