راس الخیمہ، 17 جولائی، 2025 (وام)--محکمہ اقتصادی ترقی (DED) رأس الخیمہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران امارت میں نئے کاروباری لائسنسز کی تعداد میں 17.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس مدت کے دوران 1,219 نئے لائسنسز جاری کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں جاری ہونے والے 1,037 لائسنسز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
لائسنسز کے اعتبار سے اگر ترقی کی شرح دیکھی جائے تو صنعتی لائسنسز نے سب سے زیادہ نمو حاصل کی، جس میں تقریباً 111 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے بعد پیشہ ورانہ لائسنسز میں 20 فیصد اور تجارتی لائسنسز میں 12.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروباری سرگرمیوں کے اعتبار سے سب سے زیادہ لائسنسز تھوک و پرچون کے شعبے میں جاری کیے گئے، جو مجموعی لائسنسز کا 44.4 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد تعمیراتی شعبے نے 18 فیصد، رہائش و خوراک کی خدمات نے 13.2 فیصد، صنعتی سرگرمیوں نے 11.1 فیصد، اور دیگر خدماتی سرگرمیوں نے 8.6 فیصد کا حصہ حاصل کیا۔ یہ اعداد و شمار امارت میں کاروباری تنوع اور سرمایہ کاری کے مختلف میدانوں میں دلچسپی کی واضح علامت ہیں۔
رپورٹ میں رجسٹرڈ سرمایہ میں بھی قابل ذکر اضافہ ظاہر کیا گیا ہے، جو سال کی پہلی ششماہی میں 7.5 فیصد تک پہنچا۔ بالخصوص صنعتی لائسنسز کے سرمائے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7.6 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا، جبکہ پیشہ ورانہ لائسنسز کے سرمائے میں بھی 24.7 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔
علاقہ وار جائزے کے مطابق، الضیت نے 8.7 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ نئے لائسنسز حاصل کیے، جب کہ النخیل نے 8.4 فیصد، اور القصیدات و جلفار نے 7.7 فیصد حصہ حاصل کیا۔ فعال لائسنسز کے مقابلے میں نئے لائسنسز کے تناسب میں خلیفہ بن زاید سٹی 18.9 فیصد کے ساتھ پہلے، دہن 13.4 فیصد کے ساتھ دوسرے، اور الغیل 9.1 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ نئے رجسٹرڈ سرمائے کے لحاظ سے الجزیرہ الحمرا نے تقریباً ایک تہائی سرمایہ حاصل کر کے سب پر سبقت حاصل کی، جبکہ الضیت نے 13 فیصد اور الغیل نے 8.5 فیصد سرمایہ اپنی جانب متوجہ کیا۔
اس تناظر میں محکمۂ اقتصادی ترقی کی کمرشل افیئرز کی ڈائریکٹر، آمینہ قحطان نے کہا کہ یہ مثبت نتائج امارت کے متحرک، کھلے اور ترقی پسند اقتصادی وژن کی غمازی کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اس پیشرفت کو قیادت کی ان دانشمندانہ ہدایات کا نتیجہ قرار دیا جو کاروباری ماحول کو زیادہ لچکدار بنانے، سرمایہ کاروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے، اور مجموعی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر مرکوز ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے رأس الخیمہ میں کاروباری برادری کو ایک مستحکم اور ترقی پسند ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جو طویل المیعاد اقتصادی کامیابی کی بنیاد فراہم کرے گا۔