شام کی تازہ صورتحال پر عرب وزرائے خارجہ کی مشاورت، خودمختاری کے تحفظ اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت

ابوظہبی، 18 جولائی، 2025 (وام)--گزشتہ دو روز کے دوران متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، ترکیہ، سعودی عرب، عراق، عمان، قطر، کویت، لبنان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان شام کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی، جس میں ملک کی خودمختاری، سلامتی اور تعمیرِ نو سے متعلق امور پر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیا گیا۔

یہ مشاورت شام کی حمایت میں ایک متحد موقف اور مشترکہ کوششوں کے دائرے میں کی گئی تاکہ شام کو ایسی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا جا سکے جو اس کے عوام کے حقوق، ریاست کی وحدت، خودمختاری اور پائیدار استحکام کی ضامن ہوں۔

مشترکہ اعلامیے میں وزرائے خارجہ نے مندرجہ ذیل نکات پر اتفاق کیا:

-شام کی خودمختاری، وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا گیا، اور اس کے داخلی امور میں ہر قسم کی غیر ملکی مداخلت کو قطعی طور پر مسترد کر دیا گیا۔

-صوبہ السویدا میں بحران کے حل کے لیے طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا، اور اس پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ قومی وحدت کو برقرار رکھا جا سکے، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، خونریزی روکی جائے اور قانون کی حکمرانی کو مستحکم کیا جا سکے۔

-صدر احمد الشراع کی جانب سے السویدا میں شہریوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کو سراہا گیا، اور ملک بھر میں امن و قانون کی بالادستی کے قیام اور فرقہ واریت، تشدد، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز بیانیے کے خلاف کوششوں کی حمایت کی گئی۔

-شام پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے حملے نہ صرف شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ شہریوں کی سلامتی اور شام کی نئی تعمیر کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔

-اس بات پر زور دیا گیا کہ شام کا استحکام اور سلامتی پورے خطے کے امن سے جڑے ہوئے ہیں اور یہ عرب ممالک کی مشترکہ تزویراتی ترجیح ہے۔

-عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ شام کی حکومت کو تعمیرِ نو کے عمل میں بھرپور تعاون فراہم کرے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیل کو شام کے مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلاء پر مجبور کرے، جارحیت بند کروائے، شام کے داخلی معاملات میں مداخلت روکے، اور قرارداد 2766 اور 1974 کے ڈی اسینگیجمنٹ معاہدے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے۔