سندھ، پاکستان، 19 جولائی، 2025 (وام)--'یومِ عہدِ اتحاد' کی مناسبت سے متحدہ عرب امارات کی موبائل ہارٹ کلینکس نے پاکستان کے دیہی علاقوں میں دل کے امراض کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد بزرگوں، خواتین اور بچوں کو اعلیٰ معیار کی تشخیصی، علاجی اور احتیاطی خدمات فراہم کرنا ہے۔
یہ اقدام متحدہ عرب امارات کے ینگ ہیومینیٹیرین لیڈرز پروگرام کے تحت اماراتی اور پاکستانی ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں جاری ہے، اور عالمی سطح پر جاری اماراتی انسانی خدمات کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
موبائل کلینکس ایک مربوط فیلڈ سسٹم کے تحت کام کر رہی ہیں، جس کی قیادت ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیمیں کر رہی ہیں۔ ان میں ماہر امراض قلب، بچوں کے ڈاکٹر، فیملی فزیشنز، فارماسسٹ، نرسیں اور لیبارٹری ٹیکنیشنز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تمام طبی مشورے اور ادویات مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔
یہ منصوبہ یو اے ای-پاکستان فیلڈ کلینکس کے فریم ورک کے تحت گزشتہ 25 سالوں سے جاری رضاکارانہ طبی خدمات کا حصہ ہے، جن سے اب تک دس لاکھ سے زائد مریض مستفید ہو چکے ہیں۔ ان خدمات کی نگرانی مشترکہ طور پر اماراتی اور پاکستانی طبی ٹیمیں کر رہی ہیں۔
یہ مہم ‘زاید گیونگ انیشی ایٹو’، شارجہ چیریٹی ہاؤس، یو اے ای کمیونٹی موبائل کلینکس اور ینگ ہیومینیٹیرین لیڈرز پروگرام کی شراکت داری سے چلائی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کو سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے مابین شراکتی ماڈل قرار دیا جا رہا ہے، جو کمیونٹی سطح پر طبی سہولیات کی فراہمی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
زاید گیونگ انیشی ایٹو کے سی ای او ڈاکٹر عادل الشامری کے مطابق، موبائل کلینکس کی سرگرمیوں میں شدت "سال برائے کمیونٹی" کے اہداف کے مطابق کی گئی ہے، جس کا مقصد نئے طبی رضاکاروں کی تربیت اور ان کے ذریعے کمزور طبقات کی خدمت کرنا ہے۔
اس موقع پر شارجہ چیریٹی ہاؤس کے سیکریٹری جنرل سلطان الخیال نے بتایا کہ 2025 کی حکمت عملی کے تحت اس مہم کے ذریعے 20 سے زائد پاکستانی دیہات میں پائیدار بنیادوں پر خدمات فراہم کی جائیں گی۔
اسی طرح، ینگ ہیومینیٹیرین لیڈرز پروگرام کی ڈائریکٹر الجوری العجمی نے بتایا کہ کلینکس اور فیلڈ اسپتال کی جغرافیائی رسائی کو وسعت دینے پر کام جاری ہے تاکہ مقامی شراکت داروں کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ دیہات کو اس سروس کے دائرہ کار میں شامل کیا جا سکے۔
دیہی علاقوں کے مکینوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے مفت طبی خدمات فراہم کرنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سہولیات سے انہیں بہت فائدہ ہوا ہے اور ان کی تکالیف میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس پہل کو مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے اس انسان دوست ورثے کا تسلسل قرار دیا جو ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے تھے۔