دبئی، 20 جولائی، 2025 (وام)--دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے سال 2025 کے پہلے چھ ماہ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی سطح پر اس شعبے میں اپنی نمایاں حیثیت کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔
دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال جنوری سے جون کے درمیان جائیداد کے لین دین کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار پانچ سو اڑتیس (125,538) رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 99,947 تھی۔ یوں لین دین کی شرح میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان لین دین کی مجموعی مالیت تقریباً 431 ارب درہم رہی، جو کہ گزشتہ سال کے 345 ارب درہم کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار دبئی کے جائیداد کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران جائیداد سے متعلق کل معاملات، جن میں خرید و فروخت، کرائے اور دیگر اقسام کے لین دین شامل ہیں، کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ یہ رجحان سرمایہ کاروں اور اسٹیک ہولڈرز کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور دبئی کی متنوع پراپرٹی مارکیٹ میں مستقل مانگ کی نشاندہی کرتا ہے۔
پہلے چھ ماہ میں دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے نمایاں نتائج سامنے آئے۔ اس دوران 94,717 سرمایہ کاروں نے 118,132 سرمایہ کاریوں کے ذریعے تقریباً 326 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 234 ارب درہم کے مقابلے میں 39 فیصد اضافہ ہے، جو دبئی کی مختلف قومیتوں کے سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل کشش کا مظہر ہے۔
نئے سرمایہ کاروں کی تعداد 59,075 رہی جنہوں نے مجموعی طور پر 157 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ اس میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں 22 فیصد اور سرمایہ کاری کی مالیت میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نئے سرمایہ کاروں میں سے 45 فیصد کا تعلق متحدہ عرب امارات میں مقیم افراد سے تھا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ کرایہ داروں کو مکان مالکان میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ خواتین نے اس عرصے کے دوران 73.2 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی، جس کے تحت 30,487 خواتین سرمایہ کاروں کی جانب سے 34,792 لین دین مکمل کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین نہ صرف جائیداد کے شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ اقتصادی تنوع میں بھی ان کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔
قومیت کے لحاظ سے جی سی سی ممالک کے سرمایہ کاروں نے 22.56 ارب درہم، عرب سرمایہ کاروں نے 28.4 ارب درہم اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 228.35 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ ان اعداد و شمار سے دبئی کی عالمی سرمایہ کاری مرکز کے طور پر پوزیشن مزید مضبوط ہوتی ہے، جس کی بنیاد جدید ضابطہ جاتی ڈھانچے، عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے اور ترقی و پائیداری پر مرکوز اقدامات پر قائم ہے۔
2025 کی پہلی ششماہی میں سب سے زیادہ جائیداد لین دین والے علاقوں میں "البرشاء ساؤتھ فورتھ" 10,469 لین دین کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس کے بعد "الیالیس 1" میں 7,595 اور "وادی الصفاء 5" میں 7,178 لین دین ریکارڈ کیے گئے۔ دیگر نمایاں علاقوں میں بزنس بے (6,601)، دبئی مرینا (6,428)، ایئرپورٹ سٹی (5,569)، جبل علی فرسٹ (4,275)، الثنیہ ففتھ (3,956)، برج خلیفہ (3,670)، اور میسم فرسٹ (3,643) شامل ہیں۔ ان علاقوں کی کارکردگی دبئی کی جائیداد مارکیٹ کی وسعت اور تنوع کو ظاہر کرتی ہے۔
معاملات کی مالیت کے لحاظ سے دبئی مرینا 25.1 ارب درہم کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد بزنس بے (22.5 ارب)، برج خلیفہ (17.1 ارب)، اور پام جمیرا (16.96 ارب) نمایاں رہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پرتعیش جائیدادوں میں سرمایہ کاری کا مرکز انہی علاقوں میں رہا۔ دیگر قابل ذکر علاقوں میں الیالیس 1 (15.7 ارب)، میسم سیکنڈ (15.4 ارب)، وادی الصفاء 5 (15.3 ارب)، ایئرپورٹ سٹی (15.2 ارب) اور البرشاء ساؤتھ فورتھ (14.9 ارب) شامل ہیں۔ محمد بن راشد گارڈنز نے بھی 14.5 ارب درہم کے لین دین کے ساتھ اہم مقام حاصل کیا۔
دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ وہ جائیداد کے شفاف اور مؤثر نظام کو فروغ دینے کے لیے ڈیجیٹل خدمات کو بہتر بنانے، مارکیٹ کی مسابقت کو فروغ دینے اور قوانین کو ترغیبی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ادارے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ دبئی ریئل اسٹیٹ اسٹریٹجی 2033 کے اہداف کو نافذ کرنے اور دبئی اکنامک ایجنڈا D33 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی سمت میں مسلسل کام جاری رکھے گا، تاکہ دبئی کو دنیا کے سرفہرست تین اقتصادی شہروں میں شامل کیا جا سکے اور جائیداد کا شعبہ قومی معیشت کے تنوع میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے۔