غزہ میں بھوک کا بحران سنگین تر، امداد لینے والے شہری جاں بحق: عالمی ادارہ خوراک

غزہ، 21 جولائی، 2025 (وام)--عالمی ادارۂ خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں بھوک کا بحران ’’انتہائی تباہ کن سطح‘‘ تک پہنچ چکا ہے، جہاں امداد حاصل کرنے کی کوشش میں شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ہر تین میں سے تقریباً ایک فرد کئی کئی دنوں سے غذا سے محروم ہے۔

اتوار کو جاری کردہ پریس ریلیز میں ڈبلیو ایف پی نے بتایا کہ غذائی قلت شدت اختیار کر چکی ہے اور اس وقت کم از کم 90 ہزار خواتین اور بچے فوری علاج کے منتظر ہیں۔

ادارے نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جس میں اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز امداد کے منتظر شہریوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور بے شمار زخمی ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ افراد محض اپنے اور اپنے خاندان کے لیے خوراک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ وہ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ یہ پرتشدد واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب اسرائیلی حکام کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے حالات بہتر بنائے جائیں گے، اور مسلح افواج کسی بھی مرحلے پر امدادی قافلوں کے راستے میں نہ ہوں گی اور نہ ہی مداخلت کریں گی۔

ادارے نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آزادی، غیر جانب داری اور غیر سیاسی اصولوں کے تحت کام کرتا رہے گا — یہی وہ اعتماد ہے جس کی بنیاد پر مقامی آبادی عالمی ادارے پر بھروسا کرتی ہے۔

ڈبلیو ایف پی کا کہنا تھا کہ صرف خوراک کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہی اس بحران پر قابو پا سکتا ہے، عوام کے اندر پھیلی مایوسی کو کم کر سکتا ہے اور بھوکے خاندانوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے کہ خوراک آ رہی ہے۔

ادارے نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ امدادی سامان کی تمام علاقوں تک محفوظ، مسلسل اور منظم رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

بیان کے آخر میں ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری اور تمام فریقین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اندرونِ غزہ بھوکی آبادی تک خوراک کی زندگی بچانے والی امداد کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کریں — بلا رکاوٹ، ہر مقام پر، اور ہر خاندان تک — تاکہ انسانی جانیں محفوظ رہ سکیں۔