ابوظہبی، 22 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات میں داخلہ اور اقامتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی مجموعی تعداد جنوری سے جون 2025 کے اختتام تک 32 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جنہیں فیڈرل اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی تحفظ نے مختلف انسپکشن مہمات کے دوران حراست میں لیا۔
یہ اقدامات اتھارٹی کی ملک گیر نگرانی مہمات کے تحت انجام دیے گئے، جو "محفوظ معاشرے کی جانب" کے سلوگن کے تحت انجام دی جا رہی ہیں، جن کا مقصد امارات میں غیر ملکیوں کی رہائش اور روزگار سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل سہیل سعید الخیلی نے بیان میں کہا کہ یہ مہمات صرف خلاف ورزیوں کو کم کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ امارات میں رہنے والے افراد اور آنے والے زائرین کو ایک باوقار اور قانونی زندگی فراہم کرنے کے مقصد سے جاری ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مہمات معاشرے میں قانونی شعور پیدا کرنے اور خلاف ورزیوں کے رجحان کے خاتمے کے لیے اتھارٹی کے عزم کی عکاس ہیں۔ انسپکشن کے دوران گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی، جن میں سے تقریباً 70 فیصد افراد کو قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔ دیگر افراد کو متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیے جانے کی تیاری کے لیے حراست میں رکھا گیا۔
میجر جنرل الخیلی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی پورے ملک میں اپنی نگرانی کی مہمات کا تسلسل جاری رکھے گی، اور جو افراد داخلہ و اقامتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا انہیں پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں، ان کے خلاف بھی ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ملک کا داخلہ و اقامتی قانون سخت سزائیں اور مالی جرمانے عائد کرتا ہے، نہ صرف خلاف ورزی کرنے والوں پر بلکہ ان پر بھی جو انہیں پناہ یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے امارات میں مقیم تمام افراد سے اپیل کی کہ وہ داخلہ اور اقامتی قانون کی مکمل پاسداری کریں، اور خلاف ورزی کرنے والوں کو ملازمت دینے سے گریز کریں تاکہ ملکی سلامتی اور استحکام کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔