ابوظہبی، 22 جولائی، 2025 (وام)--بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (ایرینا) کی سال 2024 کی رپورٹ کے مطابق، قابلِ تجدید توانائی نے اب بھی روایتی فوسل فیولز کے مقابلے میں قیمت کے لحاظ سے برتری برقرار رکھی، جس کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی میں جدت، مؤثر سپلائی چینز اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی بدولت حاصل ہونے والی لاگت میں کمی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمسی توانائی (Solar PV) کی لاگت فوسل فیول کے متبادل کے مقابلے میں 41 فیصد کم رہی، جبکہ آن شور ونڈ پراجیکٹس (زمین پر نصب ہوائی توانائی کے منصوبے) 53 فیصد سستے رہے۔ سال 2024 میں 582 گیگا واٹ کی قابلِ تجدید توانائی کی اضافی تنصیب سے تقریباً 57 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہوئی۔
تاہم رپورٹ میں بعض قلیل مدتی چیلنجز کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں، تجارتی محصولات (tariffs) اور خام مال کی فراہمی میں رکاوٹیں شامل ہیں، جو عارضی طور پر لاگت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔
ایرینا کے ڈائریکٹر جنرل، فرانچسکو لا کیمرا نے اس موقع پر زور دیا کہ اس ترقی کو جاری رکھنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، محفوظ سپلائی چینز، اور مستحکم پالیسی و سرمایہ کاری فریم ورک ناگزیر ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فنانسنگ رسک کو کم کرنے کی حکمتِ عملی اور پاور پرچیز ایگریمنٹس (PPAs) کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ سستے اور مستحکم مالی ذرائع تک رسائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔