متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے درمیان جامع اقتصادی معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت

برسلز، 22 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے غیر ملکی تجارت، ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے یورپی کمشنر برائے تجارت، ماروش شيفچووچ سے برسلز میں ملاقات کی، جس میں امارات اور یورپی یونین کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) سے متعلق جون اور جولائی کے اوائل میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کے تناظر میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم موقع ثابت ہوئی۔

دونوں فریقین نے مذاکرات کی رفتار اور ممکنہ فوائد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ یہ معاہدہ نہ صرف تجارتی تعلقات کو فروغ دے گا بلکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

سال 2024 میں متحدہ عرب امارات اور یورپی یونین کے درمیان غیر تیل تجارتی حجم 67 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یورپی یونین، متحدہ عرب امارات کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار بنی ہوئی ہے، جو ملک کی کل غیر تیل تجارت کا 8.3 فیصد حصہ رکھتی ہے۔

ڈاکٹر الزیودی نے اس موقع پر کہاکہ، "یورپی یونین کے ساتھ ہمارا مسلسل مکالمہ عالمی تجارتی منظرنامے میں تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ یورپی یونین ہمارے لیے ایک قابلِ قدر تجارتی و سرمایہ کاری شراکت دار ہے، اور ہماری باہمی شراکت داری توانائی کی منتقلی، جدید ٹیکنالوجی، اور غذائی تحفظ جیسے اہم شعبوں میں مسلسل گہرائی اختیار کر رہی ہے۔"

ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے قابلِ تجدید توانائی اور جدید مینوفیکچرنگ جیسے تیز رفتار ترقی کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی حکمتِ عملی پر بھی غور کیا۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی یورپی ممالک کے ساتھ شمسی توانائی اور جدید ٹیکنالوجیز کے میدان میں نمایاں شراکتیں قائم کر چکا ہے۔

اماراتی وفد میں محمد السحلوی، بیلجیم، یورپی یونین اور لکسمبرگ میں امارات کے سفیر، اور وزارتِ غیر ملکی تجارت کے اسسٹنٹ انڈر سیکرٹری جمعہ الکعیت بھی شامل تھے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اپنی معیشت کو متنوع بنانے کے ہدف کے تحت سیپا پروگرام کو اپنی غیر ملکی تجارتی حکمتِ عملی کا کلیدی ستون سمجھتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مضبوط بنا کر امارات نہ صرف عالمی منڈیوں تک اپنی رسائی میں اضافہ چاہتا ہے بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی کو بھی فروغ دینا چاہتا ہے۔