غزہ میں بھوک کا بحران سنگین، 111 امدادی تنظیموں کا فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ

اوسلو، 23 جولائی، 2025 (وام)--غزہ میں بھوک اور قحط کے پھیلتے ہوئے بحران پر دنیا بھر کی 100 سے زائد امدادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی حکومتوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان مطالبات میں فوری اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ انسانی امداد کی ترسیل پر تمام پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ اپیل مرسی کورپس، ناروے ریفیوجی کونسل اور ریفیو جیز انٹرنیشنل سمیت 111 تنظیموں کے دستخط شدہ مشترکہ بیان کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اجتماعی قحط تیزی سے پھیل رہا ہے، جبکہ دوسری جانب خوراک، صاف پانی، طبی سامان اور دیگر ضروری اشیاء کے ٹرک غزہ کی سرحد کے قریب کھڑے ہیں، مگر امدادی اداروں کو نہ رسائی دی جا رہی ہے اور نہ ترسیل کی اجازت۔

تنظیموں نے بیان میں کہا کہ، "اسرائیلی حکومت کی طرف سے جاری محاصرے نے غزہ کے عوام کو فاقہ کشی کی نوبت پر پہنچا دیا ہے۔ اب صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امدادی کارکن خود خوراک کے لیے قطاروں میں لگنے پر مجبور ہیں، اور اپنے اہل خانہ کے لیے خوراک لانے کے دوران فائرنگ کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔"

بیان میں مزید کہا گیا کہ، "امدادی ادارے اب اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی ساتھیوں اور مقامی شراکت داروں کو بھوک سے نڈھال ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیلی محاصرے کے تحت عائد کردہ رکاوٹیں، تاخیر اور غیر ضروری بکھراؤ نے افراتفری، قحط اور اموات کو جنم دیا ہے۔"

تنظیموں نے عالمی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بیوروکریٹک اور انتظامی رکاوٹوں کا خاتمہ کریں، غزہ کے تمام زمینی راستوں کو کھولنے کو یقینی بنائیں، اور علاقے کے تمام حصوں تک غیر مشروط انسانی امداد کی رسائی فراہم کریں۔ مزید یہ کہ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کے زیرِ کنٹرول تقسیم کے نظام کو مسترد کیا جائے اور اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک اصولی، غیر جانبدار اور مؤثر انسانی امدادی نظام کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاستوں کو محاصرہ ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اختیار کرنے چاہییں، جن میں اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کی فراہمی کا خاتمہ شامل ہے۔

بیان کے مطابق، ناروے ریفیوجی کونسل نے منگل کے روز روئٹرز کو بتایا کہ غزہ میں ان کے تمام امدادی ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، اور ان کے کئی عملے خود بھوک کا شکار ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی پابندیوں نے ان کی سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مارچ 2025 سے اسرائیل کی جانب سے غزہ کو تمام تر رسد کی فراہمی منقطع کیے جانے کے بعد سے غزہ کے خوراکی ذخائر مکمل ختم ہو چکے ہیں، اور صورتحال انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔