شارجہ، 23 جولائی، 2025 (وام)--شارجہ سٹی برائے انسانی خدمات (SCHS) کی میزبانی اور اعلیٰ سرپرست رکنِ اعلیٰ کونسل و حکمرانِ شارجہ، شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کی سرپرستی میں ’’انکلوزن انٹرنیشنل‘‘ کی 18ویں ورلڈ کانگریس ’’وی آر انکلوزن‘‘ کی تیاریاں بھرپور انداز میں جاری ہیں، جو 15 سے 17 ستمبر تک منعقد کی جائے گی۔
یہ پہلا موقع ہو گا کہ یہ عالمی کانگریس مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (MENA) کے خطے میں منعقد ہو رہی ہے۔ کانگریس کا اہتمام شارجہ سٹی برائے انسانی خدمات (SCHS) اور انکلوزن انٹرنیشنل کے باہمی اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
تین روزہ سرکاری پروگرام میں 83 علمی و عملی اجلاس شامل ہوں گے، جب کہ کانگریس سے قبل 14 ستمبر کو دو اہم اجلاس منعقد ہوں گے: ایک سیلف ایڈووکیسی سمٹ جس میں دنیا بھر سے 280 نمائندگان شریک ہوں گے، اور دوسرا فیملیز سمٹ جس میں 140 ایسے خاندانوں کو مدعو کیا گیا ہے جن کے افراد ذہنی معذوری کا شکار ہیں۔ ان اجلاسوں میں اعلیٰ حکام اور معزز شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔
یہ کانگریس ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے اور اس سے قبل برطانیہ، میکسیکو، آسٹریلیا اور کینیا میں اس کا انعقاد ہو چکا ہے۔ شارجہ میں اس سال کی میزبانی عالمی برادری کے اعتماد اور ذہنی معذوری کے حامل افراد کی معاونت میں شارجہ کے قائدانہ کردار کا مظہر سمجھی جا رہی ہے۔
اس سال کی کانگریس میں دنیا کے پانچوں براعظموں سے مختلف تنظیمیں شرکت کریں گی، جن میں سیلف ایڈووکیسی تنظیمیں، خاندانوں کی نمائندہ انجمنیں، صحت و تعلیم کے ادارے، سماجی تنظیمیں، شراکتی کاروباری ادارے، ترقیاتی ادارے، حکومتی عہدیداران اور پالیسی ساز شامل ہوں گے۔
کانگریس کے مرکزی ستونوں میں سیلف ایڈووکیسی کو فروغ دینا، خاندانوں میں آگاہی پیدا کرنا، پالیسی سازوں تک آواز پہنچانا، بحرانوں میں معذور افراد کی مدد، ذہنی صحت کی بہتری، والدین کے بعد کا تحفظ اور بین الاقوامی کنوینشنز کا نفاذ شامل ہے۔
اس موقع پر سیلف ایڈووکیٹس کو مرکزی حیثیت حاصل ہو گی — یعنی وہ افراد جو ذہنی معذوری کے باوجود اپنے حقوق کے لیے خود آواز بلند کر رہے ہیں — اور وہ فیصلہ سازوں کے ساتھ براہِ راست اپنے تجربات شیئر کریں گے۔
انکلوزن انٹرنیشنل کی صدر سو سوانسن نے اس موقع کو تحریک کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پہلی بار ہے کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں اپنے رکن ادارے شارجہ سٹی برائے انسانی خدمات کے ساتھ مل کر اپنی عالمی نیٹ ورک کو یکجا کر رہے ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ، ’’یہ شراکت داری اس وقت کی علامت ہے جب علاقائی قیادت اور عالمی وکالت ایک مقصد کے تحت یکجا ہوں۔ مرکز میں وہ لوگ ہیں جو حقیقی تبدیلی لا رہے ہیں — سیلف ایڈووکیٹس، خاندان اور وہ ادارے جو شمولیت کو عملی صورت دے رہے ہیں۔‘‘
یہ کانگریس نہ صرف تجربات اور پالیسیوں کے تبادلے کا پلیٹ فارم ہو گی بلکہ یہ بھی واضح کرے گی کہ کس طرح انکلوزن انٹرنیشنل نے گزشتہ دہائیوں میں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں 2006 میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق کنوینشن (CRPD) کی منظوری اور 2015 میں پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کی تائید شامل ہے۔
انکلوزن انٹرنیشنل اس وقت دنیا کے 115 ممالک میں 200 سے زائد رکن تنظیموں پر مشتمل ہے۔ MENA خطے سے 8 ممالک اور 11 تنظیمیں، یورپ سے 16 ممالک، افریقہ سے 14، امریکا سے 16 اور ایشیا و پیسیفک سے 10 ممالک کی نمائندگی شامل ہے۔
شارجہ سٹی برائے انسانی خدمات نے حکومتوں، نجی اداروں، سول سوسائٹی، تعلیمی مراکز، والدین اور ماہرین کو دعوت دی ہے کہ وہ اس عالمی ایونٹ میں شرکت کریں، اس کے موضوعات و سفارشات کو اپنائیں اور ایک مساوی اور جامع معاشرہ تشکیل دینے کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔