نیویارک، 24 جولائی، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بدھ کے روز سلامتی کونسل پر زور دیاکہ وہ غزہ میں فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی غیرمشروط رہائی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگ "تاریخی المیے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔"
اقوام متحدہ کے معاون سیکریٹری جنرل برائے مشرق وسطیٰ، خالد خیاری نے وزرا اور سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جاری سفارتی کوششوں کو لازمی طور پر ایک مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی، اور تعمیر نو و بحالی کے جامع عمل میں تبدیل ہونا چاہیے۔
انہوں نے زمینی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں خاص طور پر دیرالبلاح جیسے علاقوں میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی دوبارہ بے دخلی دیکھنے میں آئی ہے۔
خالد خیاری نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ کی عمارتوں پر بھی حملے کیے گئے، جس سے انسانی امدادی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں اور پہلے سے بحرانی صورتِ حال مزید سنگین ہو گئی۔
غزہ میں 30 جون سے اب تک 1,891 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 294 افراد وہ تھے جو امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران فوجی ناکوں کے قریب مارے گئے، جیسا کہ مقامی صحت حکام نے اطلاع دی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 9 جولائی کے بعد سے اسرائیل نے 130 دن کے مکمل محاصرے کے بعد کریم ابو سالم گزرگاہ سے محدود مقدار میں ایندھن کی ترسیل کی اجازت دی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدار زندگی بچانے والی بنیادی سہولیات کو چلانے کے لیے درکار ایندھن کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، کیونکہ غزہ میں زندگی کا تقریباً ہر پہلو ایندھن پر انحصار کرتا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے خالد خیاری نے بتایا کہ وہاں بھی تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں اور فلسطینیوں پر آبادکاروں کے حملے شامل ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے زور دے کر کہا کہ صرف دو ریاستی حل کی بنیاد پر سیاسی عمل کی بحالی ہی اس مسئلے کا پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے۔