شارجہ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نمایاں کارکردگی، 2025 کے پہلے چھ ماہ میں 27 ارب درہم کی لین دین

شارجہ، 24 جولائی، 2025 (وام)--شارجہ کی جائیداد مارکیٹ نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں زبردست ترقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 27 ارب درہم مالیت کی کل لین دین ریکارڈ کی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 18.2 ارب درہم کے مقابلے میں 48.1 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔

شارجہ رئیل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق جنوری سے جون 2025 کے دوران 48,059 ٹرانزیکشنز کی گئیں، جو کہ پچھلے سال کی 46,524 ٹرانزیکشنز کے مقابلے میں 3.3 فیصد زیادہ ہیں۔

محکمے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعزیز احمد الشامسی نے اس کارکردگی کو مارکیٹ کی مضبوط بنیادوں، سرمایہ کاروں کے اعتماد، جدید انفراسٹرکچر اور سرمایہ دوست قوانین کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی شارجہ کے حکمرانوں کی مسلسل توجہ اور حمایت کی عکاس ہے، جس نے امارات کو مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مقام بنا دیا ہے۔

محکمے کے مطابق 15,686 فروخت کی ٹرانزیکشنز مجموعی طور پر 21.2 ارب درہم کی ہوئیں، جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 45.1 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ ٹرانزیکشنز 214 مختلف علاقوں میں ہوئیں اور تقریباً 90 ملین اسکوائر فٹ پر محیط تھیں۔

موئیلیہ کمرشل علاقہ 2,898 ٹرانزیکشنز اور 3.5 ارب درہم کے ساتھ سرفہرست رہا، جب کہ البلییدہ میں 1,593 ٹرانزیکشنز (1.3 ارب درہم) اور المطرق میں 1,387 ٹرانزیکشنز (430 ملین درہم) ریکارڈ کی گئیں۔

کل ٹرانزیکشنز میں سے 11,459 یعنی 74.6 فیصد رہائشی پراپرٹیز کی تھیں۔ صنعتی جائیدادوں کی تعداد 3,195 (20.8 فیصد)، تجارتی جائیدادیں 603 (4 فیصد)، اور زرعی جائیدادیں 95 (0.6 فیصد) ریکارڈ کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 2,582 مورگیج ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت تقریباً 5.7 ارب درہم رہی، جو 24 مالیاتی اداروں کے تعاون سے کی گئیں۔ "تیلال" علاقہ 194 ٹرانزیکشنز (339.2 ملین درہم) کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد "موئیلیہ کمرشل" 167 ٹرانزیکشنز (707.3 ملین درہم)، "ام فنین" 146 ٹرانزیکشنز (222.6 ملین درہم) اور "الساعدہ انڈسٹریل" 71 ٹرانزیکشنز (204.8 ملین درہم) کے ساتھ رہے۔

چھ ماہ کے دوران آٹھ نئے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس رجسٹر ہوئے، جن میں چار رہائشی کمپلیکس (موئیلیہ، الطی، اور الطی ویسٹ) اور چار ٹاورز —دو صنعتی (الساعدہ انڈسٹریل) اور دو رہائشی/کمرشل (البلییدہ اور الواحہ)شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 109 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے شارجہ کی جائیداد میں دلچسپی لی۔ اماراتی شہریوں نے سب سے زیادہ یعنی 12.2 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی، جن سے 14,307 جائیدادیں خریدی گئیں۔ جی سی سی ممالک کے شہریوں نے 1.2 ارب درہم (889 جائیدادیں)، دیگر عرب ممالک کے شہریوں نے 5.4 ارب درہم (4,057 جائیدادیں)، اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 8.1 ارب درہم (3,878 جائیدادیں) کی سرمایہ کاری کی۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں کی تعداد میں 39.4 فیصد اضافہ ہوا، جو 6,662 سے تجاوز کرگئی، جب کہ ان کی جانب سے خریدی گئی جائیدادوں کی تعداد 7,448 رہی، جس میں 40.6 فیصد اضافہ ہوا۔

سب سے زیادہ جائیدادیں خریدنے والوں میں بھارتی شہری 1,525 جائیدادوں کے ساتھ سرفہرست رہے، اس کے بعد شامی شہری (969)، مصری (685)، اردنی (678)، اور عراقی (576) سرمایہ کار شامل رہے۔