ابوظہبی، 24 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ترکی، قطر، مصر، انڈونیشیا، اردن، بحرین، نائجیریا، فلسطین، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے اسرائیلی کنیسٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر خود ساختہ "اسرائیلی خودمختاری" نافذ کرنے کی قرارداد کی شدید مذمت کی ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 242 (1967)، 338 (1973) اور 2334 (2016) کی صریح خلاف ورزی ہے، جن میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام تر اسرائیلی اقدامات، بالخصوص آبادکاریوں کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا گیا ہے۔
اسلامی و عرب ممالک نے اعادہ کیا کہ اسرائیل کو فلسطینی مقبوضہ علاقوں، خاص طور پر مشرقی بیت المقدس پر کوئی قانونی خودمختاری حاصل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پارلیمان کی جانب سے اس نوعیت کے یکطرفہ اقدامات قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی مقبوضہ علاقوں پر اسرائیلی تسلط کو قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے۔
اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا، جو پہلے ہی غزہ پر اسرائیلی حملوں اور انسانی بحران کے باعث سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے فوری اقدامات کریں تاکہ اسرائیل کو غیر قانونی قبضے اور یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے زمینی حقائق مسلط کرنے سے روکا جا سکے۔
ممالک نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دو ریاستی حل ہی پائیدار اور منصفانہ امن کی ضمانت ہے، اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں دیرپا استحکام کا راستہ ہے۔