غزہ، 25 جولائی، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ شہر میں ہر پانچواں بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال مزید تشویشناک ہو رہی ہے۔
انروا کے کمشنر جنرل فلیپ لازرینی نے بیان میں کہا کہ، “ہماری ٹیموں کو جو بچے مل رہے ہیں، وہ نہایت کمزور، لاغر اور جان لیوا غذائی قلت کے شکار ہیں۔ اگر فوری طبی امداد نہ ملی تو ان کی زندگی خطرے میں ہے۔”
انہوں نے انکشاف کیا کہ اب تک 100 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں، بھوک کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
لازرینی کا کہنا تھا کہ، “بچے تو بھوک سے نڈھال ہیں ہی، لیکن والدین بھی اتنے بھوکے ہیں کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کے قابل نہیں رہے۔ جو چند خاندان UNRWA کلینکس تک پہنچتے ہیں، ان کے پاس نہ توانائی ہوتی ہے، نہ خوراک، نہ ہی وسائل کہ وہ علاج جاری رکھ سکیں۔”
انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہمارا طبی عملہ روزانہ صرف ایک معمولی کھانے پر گزارا کر رہا ہے، اکثر اوقات صرف دال پر۔ بعض اوقات تو انہیں کچھ بھی میسر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے عملے کے افراد دورانِ ڈیوٹی بے ہوش ہونے لگے ہیں۔
لازرینی نے کہا کہ اگر نگہداشت کرنے والے خود بھوکے ہوں، تو پوری انسانی امدادی مشینری مفلوج ہو جاتی ہے۔
انروا چیف نے عالمی برادری سے بلا تعطل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد غزہ پہنچانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، “ہمارے پاس اردن اور مصر میں تقریباً 6,000 ٹرک خوراک و ادویات سے لدے تیار کھڑے ہیں، لیکن انہیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔”