مسقط، 27 جولائی، 2025 (وام)--خلیج تعاون کونسل (GCC) کے تازہ اقتصادی اعداد و شمار کے مطابق 2024 کی چوتھی سہ ماہی کے اختتام پر خلیجی ممالک کا مجموعی جی ڈی پی (Nominal GDP) 587.8 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 579 ارب ڈالر کے مقابلے میں 1.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ معلومات خلیجی عرب ممالک کے شماریاتی مرکز (GCC-Stat) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جس میں خلیجی معیشت کی مجموعی کارکردگی اور شعبہ وار شراکت کو واضح کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غیر تیل سرگرمیوں کا معیشت میں حصہ 77.9 فیصد رہا، جبکہ تیل کے شعبے کی شراکت صرف 22.1 فیصد رہی — جو خطے کی معیشت میں تنوع (diversification) کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیجی معیشت میں غیر تیل شعبے کے مختلف حصے کس طرح حصہ ڈال رہے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) کا معیشت میں حصہ 12.5 فیصد رہا، جب کہ ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ نے 9.9 فیصد حصہ ڈالا۔ اسی طرح تعمیراتی شعبہ نے 8.3 فیصد، عوامی نظم و نسق و دفاع نے 7.5 فیصد، اور فنانس و انشورنس کے شعبے نے 7 فیصد کا حصہ دیا۔ ریئل اسٹیٹ سرگرمیوں کی شراکت 5.7 فیصد رہی، جبکہ دیگر غیر تیل سرگرمیوں نے مجموعی طور پر 27 فیصد کی نمایاں شراکت کے ساتھ معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی میں غیر تیل شعبوں کی بلند شراکت خطے کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
یہ اعداد و شمار ان اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں جو جی سی سی ممالک نے انڈسٹری، تجارت، مالیاتی خدمات، تعمیرات، اور عوامی سروسز جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کیے ہیں۔