غزہ، 27 جولائی 2025 (وام)--غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں اتوار کے روز کم از کم 13 فلسطینی شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، جب اسرائیلی فوج نے شمالی اور جنوبی علاقوں میں امداد کے منتظر عوام پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ طبی ذرائع کے مطابق شہید ہونے والوں میں دو معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک امدادی مرکز کے قریب چھ شہری اس وقت شہید ہو گئے جب سینکڑوں افراد ضروری امدادی اشیاء کے حصول کے لیے وہاں جمع تھے۔ اسی روز رفح کے مضافات میں ایک اور امدادی مرکز پر فائرنگ سے مزید چھ فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔
مرکزی غزہ کے نیتساریم کاریڈور میں بھی اسی نوعیت کا ایک حملہ پیش آیا، جہاں اسرائیلی افواج نے امداد کے منتظر شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک اور فلسطینی شہید ہوا۔
ادھر شمالی غزہ میں زکیم کراسنگ کے قریب اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی درست تعداد تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
یہ واقعات ایک روز بعد پیش آئے جب ہفتہ کی شب شمال مغربی غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر کی گئی فائرنگ میں دس افراد شہید ہو گئے تھے۔
دوسری جانب انسانی المیے کی شدت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ نصیرات میں واقع الشفاء ہسپتال کے طبی عملے نے تصدیق کی ہے کہ 10 سالہ نور ابو سلعہ شدید بھوک اور غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار گئی۔ معصوم نور کی موت کے ساتھ غزہ میں بھوک سے جاں بحق بچوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔
اسپتال ذرائع کے مطابق غزہ کی پٹی میں اب تک بھوک اور قحط کی وجہ سے 128 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ طبی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں صورت حال کو سنگین انسانی بحران قرار دے رہی ہیں اور فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔