دبئی، 27 جولائی، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے معاشی مرکز دبئی میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران رئیل اسٹیٹ بروکریج سیکٹر نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق بروکرز نے 42,181 پراپرٹی سودے مکمل کروائے جن سے حاصل ہونے والا کمیشن 3.23 ارب درہم سے تجاوز کر گیا — جو کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 99 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
یہ اضافہ صرف لین دین کی تعداد میں نہیں بلکہ رجسٹرڈ بروکرز کی بڑھتی ہوئی تعداد میں بھی دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کے ساتھ اب تک 29,577 بروکرز رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں 6,714 نئے افراد صرف سال 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں شامل ہوئے — جو اس شعبے پر اعتماد اور سرمایہ کاری میں دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر خواتین بروکرز کی شمولیت کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس وقت 10,100 خواتین اس شعبے میں متحرک کردار ادا کر رہی ہیں، جنہوں نے 13,424 لین دین مکمل کروائے اور 1.43 ارب درہم سے زائد کا کمیشن حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق خواتین کی پیشہ ورانہ مہارت، مؤثر تعلقات سازی، اور مارکیٹ کی حرکیات پر اثر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق بروکرز کا کردار صرف خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان معاملات طے کرنے تک محدود نہیں بلکہ وہ سرمایہ کار، ڈیویلپر اور صارفین کے مابین ایک مضبوط رابطے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ویلیوایشن اور بروکریج فرموں نے بھی مارکیٹ کی طلب کو پورا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
سال کی پہلی ششماہی تک 1,223 بروکریج دفاتر اور 78 پراپرٹی ویلیوایشن دفاتر رجسٹر کیے جا چکے ہیں، جن میں 118 لائسنس یافتہ ماہرینِ تخمینہ کام کر رہے ہیں۔
اسی مدت کے دوران 2,426 رجسٹرڈ ریئل اسٹیٹ سروسز دفاتر نے مجموعی طور پر 114,848 ٹرانزیکشنز کی نگرانی کی اور 86,398 صارفین کو خدمات فراہم کیں — جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 15 فیصد زیادہ ہے۔
دبئی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ شاندار کارکردگی عوامی و نجی شراکت داری کے ماڈل کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ پیشہ ور بروکرز کی بدولت نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ دبئی کی عالمی سطح پر ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے پسندیدہ مقام کے طور پر شناخت بھی مزید مستحکم ہوئی ہے۔