شارجہ، 28 جولائی، 2025 (وام)--شارجہ آثار قدیمہ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، عیسیٰ یوسف نے کہا ہے کہ جبل فایا کو یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ادارے کی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ مزید تاریخی مقامات کی عالمی سطح پر نمائندگی کے لیے کام جاری ہے۔ ان میں مشرقی علاقے میں واقع وادی الحلو اور وسطی علاقے کا ملیحہ آثار قدیمہ مرکز بھی شامل ہیں، جو پہلے ہی یونیسکو کی عبوری فہرست کا حصہ ہیں۔
انہوں نے امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو میں بتایا کہ جبل فایا کے لیے پیش کردہ نامزدگی کو ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی کے 21 میں سے 13 ممالک کی سائنسی حمایت حاصل رہی، جو اس مقام کی تاریخی صداقت اور اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا ثبوت ہے۔
عیسیٰ یوسف کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ شارجہ کی ثقافتی شناخت کو عالمی نقشے پر اجاگر کرتی ہے۔ اس سے علمی و پائیدار ثقافتی سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی سطح پر ورثہ گائیڈز اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ تمام کامیابیاں مختلف اداروں کے باہمی تعاون کا نتیجہ ہیں، جن میں شروق (شارجہ انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی) اور ملیحہ آثار قدیمہ مرکز شامل ہیں، جبکہ جبل بُحیس جیولوجیکل پارک کے سائنسی کردار اور شارجہ کامرس اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ نے اس منصوبے کو عملی شکل دی۔
عیسیٰ یوسف نے بتایا کہ “پری ہسٹورک فایا ریجن کے ثقافتی منظرنامے” کے عنوان سے نامزدگی کا آغاز 2003 میں جرمن ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر صباح جاسم کی زیرِ نگرانی ہوا۔ 2012 میں اس مقام کو عبوری فہرست میں شامل کیا گیا اور 2020 میں فائل کی ازسرِنو تشکیل کی گئی تاکہ اس کی اصل تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، جو یہ بتاتی ہے کہ جبل فایا وہ مقام ہے جہاں پالے لیتھک دور میں انسان نے پہلی بار صحرا میں آبادکاری کی۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ علاقہ دو لاکھ سال قبل جزیرہ نما عرب میں انسانی ہجرت کا جنوبی راستہ تھا۔
کلثوم السویدی، جو اتھارٹی میں ٹھوس ثقافتی ورثے کی ڈائریکٹر ہیں، نے بتایا کہ جبل فایا کے انتظامی منصوبے کو نامزدگی سے قبل مکمل کر لیا گیا تھا، اور یہ مقام دیگر عالمی ورثہ سائٹس کے برعکس سیاحوں کے لیے کھلا اور فعال ہے۔ ملیحہ مرکز میں تربیت یافتہ گائیڈز موجود ہیں، جو ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ہر دو ہفتے بعد گاڑیوں کے راستے تبدیل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونیسکو میں شمولیت کے بعد سالانہ تحفظاتی منصوبے اور ہر پانچ سال بعد مانیٹرنگ رپورٹ جمع کرانا لازم ہے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے اس ورثے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
کلثوم السویدی نے جبل فایا کی سائنسی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پہاڑی سلسلہ نایاب اوفیولائٹ چٹانوں پر مشتمل ہے، جو زمین کی اندرونی سطح کی نمائندگی کرتی ہیں، اور اسے دنیا کے تین اہم ترین جیولوجیکل مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔
عیسیٰ یوسف اور کلثوم السویدی نے اس قومی اعزاز کو حاکم شارجہ شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کے جاری کردہ قانونی تحفظاتی فریم ورک کا مرہونِ منت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کی کامیابی میں قانونی شعبے اور پلاننگ اینڈ سروے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے محفوظ زون کے ترقیاتی ضوابط نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
خصوصی شکریہ شیخہ بدور بنت سلطان القاسمی کو پیش کیا گیا جنہوں نے اس پروجیکٹ کی سفیر کی حیثیت سے درپیش چیلنجز کو عبور کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ 12 مقامی محکموں کی تعاون کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے اس سنگ میل کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔