ابوظہبی چیمبر آف کامرس کی رکنیت میں 4.9 فیصد اضافہ

ابوظہبی، 28 جولائی، 2025 (وام)--ابوظہبی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ADCCI) نے سال 2025 کی پہلی ششماہی میں رکنیت میں 4.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جس کے بعد مجموعی ممبران کی تعداد 1 لاکھ 58 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف ابوظہبی کی کاروباری فضا کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ عالمی اقتصادی چیلنجز کے باوجود امارات نے کاروبار دوست ماحول کو برقرار رکھا ہے۔

چیمبر کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ دراصل چیمبر کے اُس مؤثر کردار کا مظہر ہے جو وہ نجی شعبے کی ترقی، پائیدار معیشت کے فروغ اور نئے مواقع کی تلاش کے لیے ادا کر رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق زرعی، جنگلاتی اور ماہی پروری کے شعبے نے 21 فیصد ترقی کے ساتھ تمام سیکٹرز پر سبقت حاصل کی، جب کہ آرٹس اور انٹرٹینمنٹ میں 13 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنسی اور تکنیکی سرگرمیوں نے بھی 10 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو ابوظہبی کی جدت پسندی اور مستقبل پر مبنی معیشت کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واٹر سپلائی اور ویسٹ مینجمنٹ کے شعبے میں 9 فیصد نمو دیکھی گئی، جو ماحولیاتی شعور اور سرکلر اکانومی جیسے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ریئل اسٹیٹ اور ایڈمنسٹریٹو سروسز میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا، جب کہ تعلیم نے 7 فیصد ترقی کے ساتھ مضبوط نجی تعلیمی نظام کی نشاندہی کی۔

ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھتے ہوئے انفراسٹرکچر اور تجارتی نقل و حمل کی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ مائننگ اور کوارنگ نے 5 فیصد اور ہول سیل و ریٹیل نے 4 فیصد ترقی کے ساتھ اپنی موجودگی کو مستحکم رکھا۔

رپورٹ کے مطابق تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور مالیاتی خدمات میں 3 فیصد، جب کہ ہوٹلنگ اور فوڈ سروسز میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا — جو موسمی تغیرات اور صارفین کے بدلتے رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔

ابوظہبی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ڈپٹی چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر شامس علی الظاہری نے اس کارکردگی کو ابوظہبی کی ترقیاتی حکمت عملی کا ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف اسٹریٹجک سیکٹرز میں ممبرشپ میں اضافہ اس بات کی گواہی ہے کہ امارات کا معاشی تنوع پر مبنی وژن درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر جدت، اسٹریٹجک شراکت داریوں اور نجی شعبے کی استعداد بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ابوظہبی کا فوکس صرف روایتی شعبوں پر نہیں بلکہ وہ معیشت کو جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست پالیسیوں اور علمی بنیادوں پر استوار کر رہا ہے — جو آنے والے وقت میں پائیدار ترقی اور عالمی مسابقت میں اس کے مقام کو مزید مستحکم بنائے گا۔