غزہ میں "برڈس آف گوڈنس" فضائی امدادی مشن کا دوبارہ آغاز، متحدہ عرب امارات کا عزم برقرار

ابوظہبی، 29 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے "برڈس آف گوڈنس" آپریشن کے تحت غزہ کی پٹی پر انسانی امداد کی فضائی ترسیل کا دوبارہ آغاز کیا ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنا اور انہیں خوراک، طبی امداد، پانی اور دیگر فوری ضروریات فراہم کرنا ہے۔

یہ مشن "آپریشن الفارس الشهم 3" کا تسلسل ہے، جسے اردن کی ہاشمی سلطنت کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی عالمی سطح پر کی گئی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں یہ فضائی مشن بحال کیا گیا ہے، جو گزشتہ نو ماہ سے جنگی حالات کے باعث معطل تھا۔ اس مشن کی بحالی متحدہ عرب امارات کے اس عزم کی عکاس ہے کہ وہ برادر فلسطینی قوم کی مشکلات کم کرنے میں اپنا کلیدی کردار جاری رکھے گا۔

ابتدائی طور پر "برڈس آف گوڈنس" مشن کا آغاز 29 فروری 2024 کو وزارتِ دفاع کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے تحت کیا گیا تھا، جس میں اماراتی اور مصری فضائی افواج نے مشترکہ فضائی امداد شمالی غزہ میں فراہم کی تھی۔ پہلے مرحلے میں تین طیاروں کے ذریعے جبالیہ اور بیت لاحیا کے علاقوں میں تقریباً 36 ٹن خوراک اور طبی سامان گرایا گیا تھا۔

اب تک اس اقدام کے ذریعے تقریباً 3,750 ٹن خوراک اور امدادی سامان متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جا چکا ہے، جن میں روزمرہ ضروریات اور ہنگامی طبی سامان شامل ہے، جو غزہ کی سنگین انسانی صورتحال میں متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی طرف سے امدادی سامان زمین، سمندر اور فضاء کے ذریعے پہنچانے کے سہ جہتی نظام کے باعث، اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، اب تک غزہ کو موصول ہونے والی مجموعی بین الاقوامی امداد کا 44 فیصد متحدہ عرب امارات کی طرف سے فراہم کیا گیا ہے۔

فضائی ترسیل کے لیے GPS سے رہنمائی حاصل کرنے والے امدادی کنٹینرز استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں جدید ترین نظام کی مدد سے ہدف شدہ علاقوں میں صحیح وقت پر امداد پہنچائی جاتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تنازع اور آفات زدہ علاقوں میں امدادی رسد کی جدید ترین صورت تصور کی جاتی ہے۔

"برڈس آف گوڈنس" مشن "آپریشن الفارس الشهم 3" کا ایک کلیدی جزو ہے، جس کا آغاز 5 نومبر 2023 کو صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر کیا گیا تھا۔ یہ مشن فلسطینی عوام کی امداد کے لیے متحدہ عرب امارات کی وسیع تر انسانی ویژن کا حصہ ہے۔

31 مارچ 2025 تک متحدہ عرب امارات نے اس مشن کے تحت مسلسل 500 دنوں تک امدادی سرگرمیاں انجام دیں، جن کے دوران 65,000 ٹن سے زائد خوراک، طبی اور امدادی سامان — جس کی مالیت 1.2 ارب امریکی ڈالر سے زائد ہے — زمین، سمندر اور فضاء کے ذریعے متاثرین تک پہنچایا گیا۔

"آپریشن الفارس الشهم 3" کے تحت متحدہ عرب امارات کی جانب سے مختلف انسانی منصوبے بھی شروع کیے گئے، جن میں غزہ کے اندر ایک فیلڈ اسپتال اور مصر کے ساحل العریش کے قریب ایک فلوٹنگ اسپتال شامل ہے۔ علاوہ ازیں، یومیہ دو ملین گیلن صلاحیت کے چھ واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس قائم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں صاف پانی مہیا کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ، 21 موبائل بیکریاں روزانہ کی بنیاد پر تازہ روٹی فراہم کر رہی ہیں، جب کہ 50 فلاحی کچن بے گھر اور مستحق خاندانوں کو کھانا فراہم کر رہے ہیں۔