غزہ میں شدید بھوک اور پیاس کے بحران کے خلاف یو اے ای کی وسیع امدادی مہم، 44 فیصد عالمی امداد امارات کی جانب سے فراہم

ابوظہبی، 30 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے فلسطینی عوام کی شدید مشکلات، خاص طور پر غزہ میں بھوک اور پیاس سے جوجھتے لاکھوں افراد کی مدد کے لیے بھرپور اور ہمہ جہت امدادی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ خطے میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری انسانی بحران کے دوران، یو اے ای کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔

امارات نے خوراک، پانی اور پناہ سے متعلق اشیاء کی ترسیل زمینی، فضائی اور بحری راستوں سے کی ہے، جبکہ خودکار بیکریاں، فیلڈ کچنز اور پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں، جو پائیدار انسانی امداد کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہیں۔

غزہ میں خوراک اور پانی کی دستیابی کی صورتحال شدید بگڑ چکی ہے۔ فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو روز کے دوران غذائی قلت سے 147 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 88 بچے شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، غزہ میں 39 فیصد آبادی کئی کئی دن بغیر کھانے کے گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ پانچ لاکھ سے زائد افراد قحط جیسی صورتحال سے دوچار ہیں۔ باقی ماندہ آبادی بھی خوراک کی شدید کمی کا سامنا کر رہی ہے۔

آپریشن ‘الفارس الشهم 3’ کے آغاز سے اب تک، یو اے ای نے غزہ میں دسیوں ہزار ٹن خوراک پہنچائی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، اب تک غزہ میں دی جانے والی تمام عالمی امداد کا 44 فیصد حصہ امارات نے فراہم کیا ہے — یہ ایک بڑا انسانی کردار ہے جو سنگین بحران کو مزید تباہ کن ہونے سے بچا رہا ہے۔

غذائی امداد میں زمینی قافلوں، "برڈس آف گوڈنس" فضائی مشنز اور بحری جہازوں کے ذریعے اشیائے خور و نوش کی ترسیل شامل رہی ہے۔ حالیہ امدادی جہاز "خلیفہ ایڈ شپ" نے 7,166 ٹن سامان پہنچایا، جس میں 4,372 ٹن خوراک شامل تھی۔

2024 کے آغاز میں جب غزہ میں روٹی کا شدید بحران پیدا ہوا، تو یو اے ای نے فوری طور پر خودکار بیکریاں روانہ کیں۔ آج، اماراتی امداد سے 21 سے زائد فیلڈ بیکریاں اور 50 سے زائد سُوپ کچنز روزانہ گرم کھانے فراہم کر رہے ہیں۔

رمضان المبارک کے دوران، ہلالِ احمر امارات نے غزہ میں افطار مہم کے تحت 1.3 کروڑ افراد کو کھانے فراہم کیے، 44 سُوپ کچنز کی معاونت کی، اور 17 بیکریوں کی مدد سے 3.12 ملین افراد کو خوراک فراہم کی۔

جنگ کے باعث غزہ میں واٹر پمپنگ اسٹیشنز اور تقسیم کے نیٹ ورکس شدید متاثر ہوئے، جس سے 2 ملین سے زائد افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

یو اے ای نے ‘الفارس الشهم 3’ کے آغاز کے چند روز میں ہی 6 ڈی سیلینیشن پلانٹس قائم کیے، جو روزانہ 20 لاکھ گیلن صاف پانی فراہم کرتے ہیں اور 6 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

15 جولائی 2025 کو یو اے ای نے ایک نیا انسانی منصوبہ شروع کیا، جس کے تحت مصر میں بنائے گئے اماراتی واٹر پلانٹ سے غزہ کے جنوب میں ایک نئی 6.7 کلومیٹر طویل اور 315 ملی میٹر چوڑی پائپ لائن کے ذریعے پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ خان یونس اور رفح کے درمیان نقل مکانی کے علاقے میں روزانہ 600,000 افراد کو فی کس 15 لیٹر پانی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔

اس کے علاوہ، یو اے ای نے پینے کے پانی کے کنوؤں کی بحالی، سیوریج نیٹ ورک کی مرمت، اور واٹر ٹینکرز کی ترسیل جیسے کئی اقدامات بھی کیے ہیں۔