ابوظہبی، 31 جولائی 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات نے اپنی انسانی ہمدردی پر مبنی کوششوں اور "آپریشن الفارس الشهم 3" کے تحت غزہ کی پٹی میں صحت کے نظام کو مکمل تباہی سے بچاتے ہوئے طبی خدمات کا تسلسل یقینی بنایا ہے۔
امارات نے صحت کے شعبے میں درپیش ہنگامی صورتحال کا فوری اور مؤثر جواب دیتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ اس کی واضح مثالیں غزہ میں قائم اماراتی فیلڈ اسپتال، مصر کے شہر العریش میں تعینات فلوٹنگ اسپتال، سنگین مریضوں کو امارات منتقل کرنے کے اقدامات، اور طبی ساز و سامان کی بروقت فراہمی کی صورت میں سامنے آئیں۔
دسمبر 2023 میں قائم کیے گئے غزہ کے اماراتی فیلڈ اسپتال نے ماہر عملے اور رضاکاروں کی مدد سے مسلسل خدمات فراہم کیں۔ اپریل 2025 تک اسپتال میں 51,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا، جن میں نازک نوعیت کی چوٹیں اور پیچیدہ آپریشنز بھی شامل ہیں۔
اسی اسپتال سے متحدہ عرب امارات نے ایک فلاحی مہم بھی شروع کی، جس کا مقصد اعضا سے محروم افراد کو مصنوعی اعضاء کی فراہمی کے ذریعے ان کی زندگی کو دوبارہ بحال کرنا تھا۔
یہ اسپتال 200 بستروں پر مشتمل ہے اور مختلف اقسام کی سرجری کے لیے جدید آپریشن تھیٹرز سے آراستہ ہے۔ ایک قابلِ ذکر کامیابی میں ٹیم نے ایک مریض کے پیٹ سے پانچ کلوگرام وزنی رسولی نکالی، جس کی وجہ سے وہ برسوں سے شدید تکلیف میں مبتلا تھا۔
فروری 2024 میں امارات نے العریش کے ساحل پر ایک مکمل فلوٹنگ اسپتال تعینات کیا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنا تھا۔ اس اسپتال میں بے ہوشی، جنرل سرجری، ہڈیوں، اور ایمرجنسی میڈیسن کے ماہرین سمیت مختلف شعبوں کا عملہ شامل ہے۔
اپریل 2025 تک اس فلوٹنگ اسپتال میں 10,370 مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اسپتال 100 بستروں، جدید آپریشن تھیٹرز، انتہائی نگہداشت کے یونٹس، ریڈیالوجی، لیبارٹری، فارمیسی اور میڈیکل گوداموں سے لیس ہے۔
میدان میں موجودگی کے ساتھ ساتھ امارات نے شدید بیمار فلسطینیوں کو اپنے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے۔ صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر، امارات نے 1,000 فلسطینی کینسر کے مریضوں اور 1,000 بچوں کو ان کے اہل خانہ سمیت علاج کے لیے مدعو کیا، تاکہ مکمل صحت یابی تک انہیں بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
14 مئی تک 2,634 مریض اور ان کے اہل خانہ امارات پہنچ چکے تھے، جو کہ انسانی خدمت کے عزم کا مظہر ہے۔
طبی ساز و سامان اور ادویات متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھیجی گئی مجموعی امداد کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان میں ڈائیلاسز مشینیں، الٹرا ساؤنڈ آلات، مصنوعی تنفس کے آلات، وہیل چیئرز، ایمبولینسز، اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
"آپریشن الفارس الشهم 3" کے 500 دن مکمل ہونے تک، امارات نے 1,200 ٹن سے زائد طبی سامان غزہ کے اسپتالوں کو فراہم کیا۔ مزید یہ کہ 17 جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایمبولینسز بھی مہیا کی گئیں۔
صحت عامہ کے تحفظ کے لیے 640,000 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے، جو مستقبل کی نسلوں کو مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔
جنوری سے اپریل 2025 کے درمیان دبئی ہیومینیٹیرین نے عالمی ادارہ صحت کے لیے 256 میٹرک ٹن طبی امداد پر مشتمل تین پروازیں العریش انٹرنیشنل ایئرپورٹ روانہ کیں۔
عوامی صحت کو مزید بہتر بنانے کے لیے، امارات نے غزہ میں صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بحالی جیسے منصوبے بھی شروع کیے، جن کا مقصد آلودگی میں کمی اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔