منشیات کے خلاف متحدہ عرب امارات کا بڑا قدم: قومی انسداد منشیات اتھارٹی کے قیام کا اعلان

ابوظہبی، 3 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے صدر، عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان نے ایک وفاقی فرمانی قانون جاری کرتے ہوئے قومی انسداد منشیات اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی شیخ زاید بن حمد بن حمدان النہیان کو اس ادارے کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

یہ اتھارٹی ملک میں منشیات کے خلاف اقدامات کو مربوط بنانے، وفاقی و مقامی سطح پر اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور معاشرتی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کا قیام وزارتِ داخلہ کے انسداد منشیات جنرل ڈیپارٹمنٹ کی جگہ عمل میں آیا ہے، اور یہ کابینہ کے ماتحت ایک خودمختار وفاقی ادارہ کے طور پر کام کرے گی۔

قومی انسداد منشیات اتھارٹی کو ملک بھر میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے، اسمگلنگ اور تقسیم کے نیٹ ورکس کی نشاندہی اور خاتمے، اور متعلقہ وفاقی و مقامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی میں کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ اتھارٹی نہ صرف قانون سازی اور پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرے گی بلکہ منشیات سے منسلک نئے جرائم کے رجحانات کا بھی تجزیہ کرے گی تاکہ ایک مؤثر اور متحرک حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔

اتھارٹی کی ایک اہم ذمہ داری منشیات کے اسمگلروں اور سپلائرز کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانا بھی ہے، جس میں سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون شامل ہوگا۔

اتھارٹی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ زمینی، سمندری اور فضائی داخلی راستوں پر افراد، سامان، اور ذرائع آمدورفت کی مؤثر نگرانی کرے تاکہ منشیات کی ملک میں آمد و رفت کو روکا جا سکے۔ اس ضمن میں قومی اداروں کے ساتھ مل کر انسدادِ اسمگلنگ اور فوری ردعمل کے اقدامات کو مزید فعال بنایا جائے گا۔

اتھارٹی ایسے کیمیائی اجزاء (chemical precursors) کی نگرانی بھی کرے گی جو منشیات کی تیاری میں غیر قانونی طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس میں لائسنسنگ، تجارت، اسٹوریج، اور کسٹمز کلیئرنس کے ضوابط تیار کیے جائیں گے، تاکہ ان کی صرف قانونی اور طبی بنیادوں پر ہی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ تمام ضوابط کابینہ کی منظوری سے نافذ کیے جائیں گے۔

اتھارٹی ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس بھی قائم کرے گی جس تک ملک میں انسداد منشیات سے منسلک تمام وفاقی و مقامی ادارے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس کا مقصد نہ صرف معلومات کا بروقت تبادلہ ممکن بنانا ہے بلکہ بحران کے دوران فوری ردعمل، مربوط اقدامات، اور پالیسی کی مؤثریت کو بھی بہتر بنانا ہے۔