غزہ، 3 اگست 2025 (وام)--غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کی جانب سے اتوار کے روز متعدد علاقوں پر فائرنگ اور فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 44 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں وہ 22 افراد بھی شامل تھے جو انسانی امداد کے حصول کے لیے جمع ہوئے تھے۔ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
فلسطینی طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بھوک کے باعث مزید 6 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جس کے بعد غزہ میں قحط سے اموات کی مجموعی تعداد 175 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں 93 معصوم بچے بھی شامل ہیں، جو خوراک کی شدید قلت کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں۔
اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے غزہ میں بگڑتی ہوئی غذائی صورتحال، خاص طور پر بچوں میں شدید غذائی قلت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ادھر اتوار کی صبح، اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر کی قیادت میں صیہونی آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اشتعال انگیز طریقے سے داخل ہو کر مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ اس اقدام کو فلسطینیوں نے ایک اور اشتعال انگیز قدم قرار دیا ہے، جس سے خطے میں تناؤ میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔