قاہرہ، 3 اگست، 2025 (وام)--عرب پارلیمنٹ نے قابض اسرائیلی وزیروں اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اشتعال انگیز مذہبی رسومات ادا کرنے کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان اقدامات میں اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی شامل تھے، جنہیں اسرائیلی افواج کی سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔
پارلیمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس واقعے کو نہ صرف یروشلم کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا بلکہ اسے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کی ایک خطرناک کوشش بھی کہا گیا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات تنازعے کو مذہبی رنگ دے کر عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
عرب پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ یہ خلاف ورزیاں نہ صرف غزہ میں جاری نسل کشی کی تسلسل ہیں بلکہ مغربی کنارے میں قبضے اور جبری بے دخلی کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ بھی ہیں۔ بیان میں اسرائیلی حکومت کو ان اقدامات کا مکمل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ان جارحیتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور فلسطینی عوام و ان کے مقدس مقامات کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے۔
اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے عرب پارلیمنٹ نے ایک بار پھر فلسطینی قوم کے اس جائز حق کی مکمل حمایت کی کہ وہ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد ریاست قائم کرے۔ ساتھ ہی اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ شہر یروشلم کی شناخت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا جاتا ہے۔