ابوظبی، 4 اگست 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے مالیاتی استحکام کی سالانہ رپورٹ برائے 2024 جاری کر دی ہے، جس میں ملکی مالیاتی نظام کی مجموعی صورتحال، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، اور عالمی خطرات کے تناظر میں معاشی استحکام کا تفصیلی جائزہ شامل ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اماراتی بینکاری شعبہ مستحکم رہا، جو مضبوط سرمایہ جاتی و نقدی بنیادوں، بہتر اثاثہ معیار، اور مسلسل ترقی کی بدولت ممکن ہوا۔ محتاط پالیسیوں، اقتصادی استحکام، اور مؤثر خطرہ انتظام کے باعث مالیاتی استحکام کو درپیش خطرات قابو میں رہے اور پچھلے سال کے مقابلے میں کسی بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں ہوا۔
رپورٹ میں ملکی و عالمی سطح پر اقتصادی رجحانات، مالیاتی منڈیوں کے حالات، مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، اور ضوابطی ترقیات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے، جس میں خاص طور پر نئی ابھرتی ہوئی مالیاتی و ماحولیاتی خطرات اور مزاحمتی صلاحیتوں پر توجہ دی گئی ہے۔
2024 میں مالیاتی نظام کی ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی مالیاتی استحکام کونسل کو فعال کیا گیا، جس کی سربراہی شیخ منصور بن زاید النہیان کر رہے ہیں۔ اس اقدام سے نظامی خطرات کی نگرانی، پالیسی ردعمل میں تیزی، اور شراکت دار اداروں کے مابین تعاون میں بہتری آئی ہے۔
اسی سال، مرکزی بینک نے اپنے ضوابطی و نگرانی فریم ورک کو مزید تقویت دی، جن میں نئے'میکروپرڈینشل ٹولز'، سائبر سیکیورٹی کے سخت معیارات، پائیدار مالیات کے فروغ، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات کی تشخیص شامل ہے، جو عالمی معیارات کے مطابق کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں شامل ‘سٹریس ٹیسٹ’ سے ظاہر ہوا کہ امارات کے بینک شدید معاشی جھٹکوں کے باوجود قرضوں کی فراہمی جاری رکھنے، اور سرمایہ و نقدی سطح کو کم از کم تقاضوں سے کہیں بلند رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، 2024 میں امارات کی حقیقی جی ڈی پی میں 4 فیصد اضافہ ہوا، جس میں غیر تیل شعبے کا کردار بنیادی رہا۔ آئندہ سال کے لیے یہ شرح 4.4 فیصد جبکہ 2026 میں 5.4 فیصد تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو اقتصادی تنوع کی حکمت عملی کا عکس ہے۔
نان بینک مالیاتی ادارے (NBFIs) بھی مضبوط کارکردگی دکھاتے رہے، خاص طور پر انشورنس شعبے نے 21.4 فیصد نمو حاصل کی، جس کے نتیجے میں مجموعی پریمیئمز AED 64.8 ارب تک پہنچ گئے۔ فنانس کمپنیاں اور منی ایکسچینج ادارے بھی بہتر سرمایہ کاری اور مستحکم عملی ڈھانچے کے ساتھ نمایاں رہے۔
2024 میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا دائرہ تیزی سے پھیلا، جس میں FinTech، ڈیجیٹل ادائیگیوں، AI اور ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال میں اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک نے "Jaywan" ڈومیسٹک کارڈ اسکیم، “Aani” انسٹنٹ پیمنٹ پلیٹ فارم، اور ڈیجیٹل درہم (CBDC) جیسے اقدامات سے قومی ادائیگی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا۔
مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاما نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے 2024 میں بڑھتے ہوئے عالمی چیلنجوں کے باوجود قومی ترقی اور بینکاری نظام کی مضبوطی کی بدولت اپنی اقتصادی و مالیاتی پوزیشن کو مستحکم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ CBUAE قائدانہ وژن اور قومی ترقیاتی اہداف کے تحت پائیدار مالیاتی استحکام، ضوابطی بہتری اور خطرہ تجزیہ کی مضبوطی کے ذریعے ملکی معیشت میں نمو اور خوشحالی لانے کے لیے پرعزم ہے۔