نیویارک، 6 اگست 2025 (وام)--اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا گیا، جس میں غزہ کی پٹی میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران پر خاص توجہ مرکوز کی گئی۔
اجلاس کے دوران میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے محکمہ برائے سیاسی امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے یورپ، وسطی ایشیا اور امریکہ، میروسلاف جینکا نے غزہ کے مکینوں کو درپیش انتہائی کٹھن اور خطرناک حالات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں جان بچانے والی خوراک کی ترسیل کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کیں۔
میروسلاف جینکا کے مطابق، اقوام متحدہ کے وہ شراکت دار ادارے جو غزہ میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں، شدید غذائی قلت کے انتباہ جاری کر چکے ہیں، جو کہ مقامی آبادی کی بقاء کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
اسی سلسلے میں، اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) نے ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے رہائشی بھوک، فاقوں اور غذائی قلت کی بڑھتی ہوئی علامات کے درمیان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والی موجودہ خوراک کی مقدار، وہاں کی بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں کو امداد کی فراہمی اور تقسیم کے عمل میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے باعث متاثرین تک امداد پہنچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔