نوجوانوں کا روزگار، مہارت اور مساوات: جی20 اجلاس میں امارات کا وژن پیش

دبئی، 6 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے انسانی وسائل و امارات کاری اور قائم مقام وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق، ڈاکٹر عبدالرحمن العوار نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا پائیدار ترقی اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کا بنیادی ستون ہے، اور یہ وژن یو اے ای کی قومی پالیسی کا مرکز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اماراتی لیبر مارکیٹ میں نوجوانوں کی شرکت 50 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جب کہ گزشتہ ایک سال میں ورک فورس میں 12 فیصد اضافہ اور کمپنیوں کی مجموعی تعداد میں 17 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔

ڈاکٹر العوار نے یہ بات جنوبی افریقہ کے شہر جورج میں ہونے والے جی20 لیبر و ایمپلائمنٹ منسٹرز اجلاس کے دوران ایک سیشن “انکلوسیو گروتھ، جاب کری ایشن، اینڈ یوتھ ایمپاورمنٹ” سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ وزارت انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن (MoHRE) کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ "نَفِس" پروگرام کے آغاز کے بعد گزشتہ تین سالوں میں اماراتی شہریوں کی لیبر مارکیٹ میں شرکت میں 325 فیصد اضافہ ہوا، جو ملک کی جامع اقتصادی ترقی، جدت طرازی اور معاشرتی ہم آہنگی کو تقویت دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر العوار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات تعلیم کے شعبے کو بدلتے ہوئے لیبر مارکیٹ تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم (TVET) میں سرمایہ کاری بڑھائی گئی ہے، بالخصوص ان شعبوں میں جو مستقبل کی معیشت سے جڑے ہیں، جیسے کہ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیجیٹل سروسز، صحت، تعلیم، صنعت اور کاروبار۔

انہوں نے اس سلسلے میں نیشنل یوتھ ایجنڈا 2031، انڈسٹریلسٹ پروگرام، اور نَفِس پروگرام سمیت مختلف قومی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تمام اقدامات نوجوانوں کی مہارت سازی، ملازمت کے مواقع، اور اختراعی سوچ کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، یو اے ای نے کاروباری مواقع اور ڈیجیٹل مہارت کے میدان میں بھی بڑی پیش رفت کی ہے۔ اماراتی کونسل برائے انٹرپرینیورشپ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا گیا ہے، جب کہ "5,000 ڈیجیٹل ٹیلنٹس" نامی پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو جدید اقتصادی دور کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

جی20 اجلاس کے ایک اور سیشن "صنفی مساوات اور لیبر مارکیٹ" میں شرکت کے دوران ڈاکٹر العوار نے کہا کہ یو اے ای صنفی مساوات اور انصاف کے اصولوں پر مکمل طور پر کاربند ہے۔ ملک میں کام کی جگہ پر خواتین اور مردوں کے درمیان کسی بھی قسم کے امتیاز کو قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے، بشمول ترقی، تربیت اور اجرت جیسے پہلوؤں کے۔

انہوں نے بتایا کہ یو اے ای کی سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا حصہ 66 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جن میں سے 30 فیصد سے زائد اعلیٰ قیادت کے عہدوں پر فائز ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی خواتین کی شرکت میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور ماہرانہ ملازمتوں میں 46 فیصد خواتین کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر العوار نے کہا کہ صنفی برابری میں امارات کی نمایاں پیش رفت عالمی درجہ بندیوں میں بھی نظر آتی ہے۔ یو این ڈی پی کے "جینڈر ان ایکوالیٹی انڈیکس" میں یو اے ای کو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں پہلا نمبر حاصل ہوا ہے، جب کہ ورلڈ بینک کی "ویمن، بزنس اینڈ لا 2024" رپورٹ میں یو اے ای نے 100 میں سے 82.5 اسکور حاصل کیا ہے۔

واضح رہے کہ جی20 دنیا کی اہم معیشتوں پر مشتمل ایک پلیٹ فارم ہے جو عالمی جی ڈی پی کا 85 فیصد، بین الاقوامی تجارت کا 75 فیصد، اور عالمی آبادی کا دو تہائی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ فورم عالمی اقتصادی استحکام، پالیسی سازی، اور باہمی تعاون کے لیے ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔