ابوظہبی، 6 اگست 2025 (وام)--عالمی سطح پر صحت اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں پیش پیش ادارہ ایم42 نے ٹی بی (تپِ دق) کی اسکریننگ سے متعلق ایک انقلابی تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا ہے، جو معروف سائنسی جریدے npj ڈیجیٹل میڈیسن - نیچر میں شائع ہوئی ہے۔
یہ تحقیق کیپیٹل ہیلتھ اسکریننگ سینٹر (CHSC)، ابوظہبی کے اشتراک سے کی گئی، جو ایم42 گروپ کا حصہ ہے۔ یہ مطالعہ AI ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کے حل کی دنیا کی بڑی کلینیکل ویلیڈیشنز میں سے ایک ہے، جس میں 10 لاکھ سے زائد ایکس رے تصاویر (Chest X-rays) کا تجزیہ کیا گیا تاکہ مصنوعی ذہانت کی افادیت اور توسیعی صلاحیت کو جانچا جا سکے۔
تحقیق میں 'AIRIS-TB' نامی اے آئی ماڈل کا جائزہ لیا گیا، جو ایم42 کی جانب سے تیار کردہ ایک جدید نظام ہے۔ یہ ماڈل معمول کی ٹی بی اسکریننگ کو خودکار بنانے میں معاون ہے تاکہ ریڈیولوجسٹس اپنی توجہ پیچیدہ اور ہنگامی کیسز پر مرکوز رکھ سکیں۔ 'AIRIS-TB' نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 98.5 فیصد AUROC اسکور حاصل کیا، جو اس کی تشخیصی درستگی کا ثبوت ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، صرف 2023 میں دنیا بھر میں 10.8 ملین افراد ٹی بی کا شکار ہوئے، اور 12.5 لاکھ افراد اس مرض سے ہلاک ہوئے۔ ایسے حالات میں 'AIRIS-TB' نے ٹی بی سے متعلق کیسز میں 0 فیصد فالس نیگیٹو ریٹ رپورٹ کیا، جو اس کی محفوظ، مؤثر، اور بھروسے مند صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ ماڈل 80 فیصد تک کے معمول کے ایکس رے معائنوں کو خودکار طریقے سے مکمل کر سکتا ہے، جس سے ریڈیولوجسٹس کے بوجھ میں کمی، انسانی غلطیوں میں کمی، اور کم وسائل والے علاقوں میں لاگت میں بچت ممکن ہوتی ہے۔ ایک سابقہ تحقیق کے مطابق، جب ریڈیولوجسٹس اپنی رفتار دوگنی کرتے ہیں تو 26.6 فیصد تک تشخیصی غلطیوں میں اضافہ ہوتا ہے، اور 9 گھنٹے سے زائد کام کے بعد غلطیوں کی شرح مزید بڑھ جاتی ہے۔
'AIRIS-TB' نے جنس، عمر، HIV اسٹیٹس، آمدنی، اور عالمی آبادی کی مختلف اقوام پر مشتمل ڈیٹا سیٹس میں یکساں اعلیٰ کارکردگی دکھائی، جس سے اس ماڈل کی شفافیت، مساوات، اور عالمی سطح پر مؤثر اطلاق کا ثبوت ملتا ہے۔
ایم42 کے گروپ سی ای او دیمتریس مولواسیلس نے کہاکہ، "یہ مطالعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کس طرح ٹی بی جیسے خطرناک امراض کے خلاف عالمی جنگ میں انقلابی کردار ادا کر سکتی ہے۔ AIRIS-TB ماڈل نہ صرف درست اور محفوظ ہے بلکہ وہ خاص طور پر ان علاقوں میں امید کی کرن بن سکتا ہے جہاں ریڈیولوجسٹس کی کمی ہے اور ٹی بی کے کیسز زیادہ ہیں۔"
کیپیٹل ہیلتھ اسکریننگ سینٹر کی سی ای او ڈاکٹر لیلیٰ عبد الواحد نے کہاکہ، "یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ AI ماڈلز نہ صرف انسان کی برابری بلکہ کچھ صورتوں میں ان سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ یہ ماڈل ریڈیولوجسٹس کو پیچیدہ کیسز پر توجہ دینے کا موقع دیتا ہے، جس سے مجموعی تشخیص کی صلاحیت میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔"
یہ تحقیق ابوظہبی محکمہ صحت کی نگرانی میں مکمل کی گئی، جس میں سخت اخلاقی معیارات اور سائنسی جانچ کو یقینی بنایا گیا۔ معروف سائنسی جریدے میں اس کی اشاعت ایم42 کی اے آئی-مرکوز صحت کی قیادت اور امارات کی ڈیجیٹل میڈیکل انویشن میں عالمی حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔