دائمی تھکاوٹ کے مرض کو ذہنی بیماری قرار دینا غلط ثابت: برطانوی سائنسدانوں کی تحقیق

لندن، 7 اگست 2025 (وام)--ایڈنبرا یونیورسٹی کے محققین نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دائمی تھکاوٹ سنڈروم میں مبتلا افراد کے ڈی این اے میں مخصوص تبدیلیاں پائی گئی ہیں، جو اس نظریے کی نفی کرتی ہیں کہ یہ بیماری محض ذہنی کیفیت یا سستی کا نتیجہ ہے۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق، میالجک اینسیفالو مائیلائٹس / دائمی تھکاوٹ سنڈروم (ME/CFS) کے مریضوں اور صحت مند افراد کے درمیان ڈی این اے کی آٹھ مختلف جینیاتی اقسام دریافت کی گئی ہیں، جو اس بیماری کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ دریافت پہلی واضح سائنسی دلیل ہے کہ انسان کے جینز اس مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کو متاثر کرتے ہیں۔

ME/CFS کے نمایاں علامات میں معمولی جسمانی یا دماغی مشقت کے بعد تھکن میں اضافہ، جسمانی درد اور ذہنی دھند شامل ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ اب تک اس مرض کی کوئی مخصوص تشخیصی ٹیسٹ یا علاج دستیاب نہیں ہے، جبکہ دنیا بھر میں تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ افراد اس بیماری کا شکار ہیں۔

یہ تحقیق "DecodeME" نامی منصوبے کے تحت کی گئی، جس میں یورپی نسل سے تعلق رکھنے والے 15,579 ایسے افراد کے ڈی این اے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا جنہوں نے ایک سوالنامے کے ذریعے اپنی دائمی تھکن کی شکایت ظاہر کی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2,59,909 صحت مند افراد کو بھی شامل کیا گیا۔

غیر تصدیق شدہ سائنسی رپورٹ کے مطابق، تحقیق میں دریافت ہونے والے جینز مدافعتی اور اعصابی نظام سے متعلق پائے گئے، جبکہ کم از کم دو جینیاتی علاقوں کا تعلق جسم کے انفیکشن کے ردعمل سے بھی سامنے آیا—جو کہ مریضوں کے اس دعوے سے مطابقت رکھتا ہے کہ یہ بیماری اکثر کسی انفیکشن کے بعد شروع ہوتی ہے۔

ایک اور جینیاتی علاقہ ان افراد میں بھی پایا گیا ہے جو دائمی درد کے مریض ہوتے ہیں، جو کہ ME/CFS کی ایک اور عام علامت ہے۔

تحقیقی ٹیم سے وابستہ اینڈی ڈیورکس-کک نے اسے مریضوں کے برسوں پرانے مشاہدات کی سائنسی تصدیق قرار دیتے ہوئے کہا کہ، "یہ نتائج ME/CFS کے سائنسی شعبے میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ فوری طور پر کوئی ٹیسٹ یا علاج دستیاب نہیں ہوگا، مگر یہ تحقیق اس بیماری کی گہرائی میں جانے کے نئے راستے ضرور کھولے گی۔

دوسری جانب، تحقیق میں شامل نہ ہونے والے بعض ماہرین نے تنقید کی کہ چونکہ تحقیق میں صرف وہ افراد شامل کیے گئے جنہوں نے خود کو مریض ظاہر کیا، بجائے اس کے کہ ان کے پاس طبی تشخیص ہو، اس لیے اس تحقیق کی نتائج میں مکمل قطعیت نہیں۔ انہوں نے اس کے نتائج کو مستحکم کرنے کے لیے مزید وسیع پیمانے پر تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔

برونیل یونیورسٹی لندن سے وابستہ ڈاکٹر جیکی کلف نے کہا کہ، "ان نتائج کو مؤثر علاج میں تبدیل کرنے کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے، اور اس میں علمی و صنعتی میدانوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔"