اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس

نیویارک، 10 اگست، 2025 (وام)--اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اتوار کی صبح نیویارک میں اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیلی کابینہ نے غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی میں مزید توسیع اور غزہ شہر کے مکمل کنٹرول کا فیصلہ کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اس پیش رفت کو خطے میں موجود بیس لاکھ محصور شہریوں اور زیرِ حراست اسرائیلی مغویوں کے لیے ایک “خطرناک بگاڑ” قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے یورپ، وسطی ایشیا اور امریکا، میروسلاو ینچا نے کونسل کو بتایا کہ غزہ کے حالات ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں اور اگر فوجی کارروائی جاری رہی تو اس کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے عالمی ادارے کے مستقل مطالبات کو دہراتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی فوری اور مستقل بنیادوں پر نافذ کی جائے، تمام مغویوں کو بلا شرط رہا کیا جائے اور انسانی امداد کی رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق غزہ میں بھوک اس سطح تک پہنچ چکی ہے جسے “کھلی بھوک اور قحط” سے تعبیر کیا گیا، جبکہ امدادی قافلے عدم تحفظ اور رسائی میں رکاوٹوں کے باعث بری طرح متاثر ہیں۔

کونسل کے رکن ممالک اس معاملے پر منقسم نظر آئے۔ فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک نے خبردار کیا کہ اسرائیلی منصوبہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور عام شہریوں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی دوران جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز نے اعلان کیا کہ ان کا ملک غزہ میں استعمال ہونے والے فوجی سازوسامان کی برآمد روک رہا ہے، جو جرمنی کی روایتی اسرائیل نواز پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے نمائندے ریاض منصور نے اسرائیلی اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور عالمی برادری کی رائے کے منافی قرار دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بشمول قطر اور متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیلی منصوبے کی مذمت کی، جبکہ ایران نے اسرائیل پر نسلی تطہیر کی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا۔ اجلاس کسی متفقہ قرارداد کے بغیر ختم ہوا جو کونسل میں پائی جانے والی گہری تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی دوران غزہ میں طبی ذرائع نے اطلاع دی کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں 61 لاشیں لائی گئیں، جن میں دو ملبے تلے سے نکالی گئیں، جبکہ 363 زخمیوں کو بھی طبی امداد فراہم کی گئی۔ متعدد اموات کی لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں کیونکہ ایمبولینس عملہ متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہا۔

مزید یہ کہ قحط اور غذائی قلت کے باعث پانچ نئی اموات ہوئیں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، یوں بھوک سے ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 217 ہو گئی ہے، جن میں 100 بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین نے خبردار کیا ہے کہ مارچ سے جون کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں میں غذائی قلت کی شرح دوگنی ہو چکی ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ شدید غذائی قلت کا شکار ہے، جو ناکہ بندی اور امداد میں تاخیر کا نتیجہ ہے۔