216.5 ارب درہم کی معاونت کے ساتھ امارات کا عرب ممالک میں ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں کردار

ابوظہبی، 11 اگست 2025 (وام)--تازہ اعداد و شمار کے مطابق ابو ظہبی فنڈ برائے ترقی (اے ڈی ایف ڈی) نے عرب ممالک میں معاشی اور سماجی ترقی کی کوششوں کو مستحکم کرنے میں اپنے اہم کردار کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ ادارے نے ایسے اسٹریٹجک منصوبوں کی مالی معاونت کی ہے جو استحکام کو فروغ دیتے ہیں، ترقی کی رفتار بڑھاتے ہیں اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کی اپنے عرب ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار وابستگی کو اجاگر کرتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں فنڈ نے خطے میں اپنی سرگرمیوں کا دائرہ بڑھایا ہے اور اپنے مشن کو صحت، توانائی اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں میں عملی منصوبوں کی صورت میں ڈھالا ہے، جنہیں پائیدار استحکام اور مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ ہر منصوبہ جامع ترقی کی راہ میں ایک مضبوط قدم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

فنڈ کی 2024ء کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اب تک ترقیاتی منصوبوں کے لیے اس کی مجموعی مالی معاونت 216.5 ارب درہم تک پہنچ چکی ہے، جس سے 107 ممالک مستفید ہوئے ہیں۔ اس میں 157 ارب درہم کے رعایتی قرضے، 57.6 ارب درہم کی حکومتی گرانٹس اور 1.9 ارب درہم کی براہِ راست شراکتیں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2024ء میں فنڈ نے عرب ممالک کے لیے متحدہ عرب امارات کی جانب سے چھ حکومتی گرانٹس کا انتظام کیا جن کی مالیت مجموعی طور پر 810 ملین درہم تھی۔ ان سے اردن، مراکش، یمن اور موریطانیہ کو فائدہ پہنچا۔ اردن کو تین اہم منصوبوں — قومی ڈیجیٹل ہیلتھ پروگرام، بجٹ معاونت اور مطالعے کی مہارتوں کے فروغ کے پروگرام — کے لیے 452 ملین درہم سے زائد فراہم کیے گئے۔ مراکش کو سڑک کے توسیعی منصوبے کے لیے 129 ملین، یمن کو سقطریٰ میں سولر پاور پروجیکٹ کے لیے 45 ملین اور موریطانیہ کو کالج آف اپلائیڈ سائنسز کے لیے 184 ملین درہم دیے گئے۔

اہم منصوبوں میں اردن کا حال ہی میں شروع کیا گیا "اردن ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹر" بھی شامل ہے، جس کا مقصد ملک بھر کے طبی مراکز کو ایک متحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے جوڑنا اور مریضوں کے ریکارڈ کا مربوط نظام قائم کرنا ہے، تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق دور دراز طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ پہلے مرحلے میں پانچ دور افتادہ اسپتال اور تین ہیلتھ سینٹر اس نظام سے منسلک ہو چکے ہیں، جو اردن اور امارات کے درمیان ڈیجیٹل ترقی کے شعبے میں مضبوط تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔

فنڈ، عرب خلیج ترقیاتی پروگرام (AGFUND) کے تحت اردن اور مراکش میں 2012ء سے 2024ء تک 4.6 ارب درہم کے منصوبوں کی نگرانی بھی کر رہا ہے، جن کا براہِ راست تعلق عوامی فلاح سے ہے۔ اسی عرصے میں بحرین کو خلیجی تعاون کونسل کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 9.2 ارب درہم کی گرانٹ دی گئی، جو مختلف شعبوں میں بڑے منصوبوں پر صرف کی گئی۔

2025ء میں فنڈ نے عرب دنیا میں کئی بڑے سرمایہ کاری منصوبے جاری رکھے ہیں، جن میں مصر میں "سوفیتل لیجنڈ پیرامڈز جیزہ" ہوٹل، عمان کے صلالہ میں ایک ہمہ گیر سیاحتی منصوبہ، اور بحرین انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی توسیع شامل ہے۔ اس کے علاوہ کومور میں شمسی بجلی گھر، صومالی لینڈ میں رہائشی منصوبہ اور جون 2025ء میں خلیجی ممالک کے توانائی رابطہ منصوبے کے لیے ایک معاہدہ بھی کیا گیا، تاکہ خطے میں توانائی کا تحفظ مضبوط بنایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ قدر کے منصوبے ابو ظہبی فنڈ کو ترقی اور استحکام کے لیے ایک پل کی حیثیت دیتے ہیں اور یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کے اس مستقل عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ عرب خطے اور اس سے باہر خوشحالی اور امن کو فروغ دیتا رہے گا۔