نیویارک، 12 اگست, 2025 (وام)--اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اتوار کو غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں چھ فلسطینی صحافیوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے پیر کو صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ تازہ واقعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ اس جاری جنگ کی کوریج کے دوران صحافی کس قدر سنگین خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوجارک کے مطابق، سیکریٹری جنرل نے ان ہلاکتوں کی آزاد اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 242 فلسطینی صحافی غزہ میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے اور انہیں کسی بھی قسم کے دباؤ یا خطرے کے بغیر اپنا کام کرنے دیا جائے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار اداروں نے خوراک اور صفائی کی اشیاء کی کھیپ کرم ابو سالم کراسنگ پر پہنچائی، مگر غزہ میں شدید ضرورت کے باعث یہ سامان اپنے مقررہ مقامات تک پہنچنے سے قبل ہی راستے میں اتار لیا گیا۔ دوجارک نے کہا کہ، “لوگوں کو زندہ رہنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد سپلائی لائن کی ضرورت ہے، محض امداد کے چند قطرے کافی نہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز امدادی کارکنوں نے کراسنگ سے ایندھن بھی لایا، تاہم اسرائیلی حکام روزانہ اوسطاً ڈیڑھ لاکھ لیٹر ایندھن کی اجازت دے رہے ہیں، جو ان کے مطابق غزہ میں زندگی بچانے والی سرگرمیوں کے لیے درکار کم سے کم مقدار سے بھی کم ہے۔
دوجارک نے مزید کہا کہ ایندھن اور پرزہ جات کی ترسیل پر پابندی کے باعث فلسطینی ریڈ کریسنٹ کی نصف سے زیادہ ایمبولینسیں غزہ میں کام بند کر چکی ہیں۔