عالمی ادارہ صحت کا انتباہ — طویل ہیٹ ویوز انسانی صحت کے لیے جان لیوا خطرہ بن رہی ہیں

پیرس، 13 اگست، 2025 (وام)--عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور ماہرینِ صحت و ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ طویل دورانیے کی ہیٹ ویوز اب محض عارضی پریشانی نہیں رہیں، بلکہ انسانی صحت کے لیے بڑھتا ہوا جان لیوا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ریکارڈ توڑ گرمی کے اس دور میں یہ خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ مسلسل گرمی کے اثرات انسانی جسم پر کس حد تک جمع ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، خطرہ صرف فوری اثرات جیسے ہیٹ اسٹروک یا شدید پانی کی کمی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ گرمی دل اور سانس کی دائمی بیماریوں کو بھی مزید بگاڑ سکتی ہے، جن کی علامات ہیٹ ویو شروع ہونے کے کئی دن بعد ظاہر ہو سکتی ہیں یا موت کا باعث بن سکتی ہیں۔ فرانس کی وزیرِ صحت، کیتھرین ووٹرین نے خبردار کیا کہ گرمی کے اثرات لازمی نہیں کہ فوراً ظاہر ہوں، اس لیے ہیٹ ویو کے بعد بھی محتاط رہنا ضروری ہے۔

اگرچہ ماہرین میں اس بارے میں سائنسی بحث جاری ہے کہ طویل گرمی کے مجموعی اثرات کس حد تک خطرناک ہوتے ہیں — 2011 میں شائع ہونے والی ایپی ڈیمیالوجی کی ایک تحقیق میں چوتھے دن کے بعد معمولی اضافی اثرات کا ذکر کیا گیا، جبکہ 2018 میں سائنس آف دی ٹوٹل انوائرمنٹ کی ایک تحقیق میں دورانیے کے اثر کو کم اہم قرار دیا گیا — مگر حالیہ مطالعات نے اس خطرے کے نئے پہلو سامنے لائے ہیں۔

2024 میں شائع ہونے والی لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن اور سلیپ میڈیسن کی رپورٹس کے مطابق، بڑھتا ہوا درجہ حرارت نیند کے لیے عالمی خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس سے جسم کی بحالی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

یہ نتائج 2003 کی اس گرمی کی لہر کی یاد دلاتے ہیں، جب یورپ میں طویل ہیٹ ویو کے باعث 70 ہزار سے زائد اموات ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق، بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیشِ نظر اس رجحان کا مزید گہرائی سے مطالعہ ناگزیر ہے۔