بیجنگ، 13 اگست، 2025 (وام)--چین کے سرکاری کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی چین کو برآمدات کا سب سے بڑا ذریعہ معدنیات کا شعبہ رہا، جہاں تانبے اور اس سے متعلقہ مصنوعات نے نمایاں مقام حاصل کیا۔
چینی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (جی اے سی سی) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری سے جون کے درمیان تانبے کی برآمدات کا مجموعی حجم 482.41 ملین امریکی ڈالر رہا۔ اگرچہ یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں کچھ کم (504.53 ملین ڈالر) رہا، تاہم اس کمی کی وجہ عالمی سطح پر تانبے کی قیمتوں میں نرمی بتائی گئی ہے، نہ کہ مقدار میں کمی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق، ریفائنڈ کاپر مصنوعات سے 266.67 ملین ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ ان ریفائنڈ کاپر اور الیکٹرولائٹک ریفائننگ کے لیے اینوڈز کی برآمدات 2024 کے 132.16 ملین ڈالر سے بڑھ کر 153 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اس کے علاوہ کاپر ویسٹ اور اسکریپ کی مد میں 36.34 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔
دیگر معدنیات میں آئرن اور اس کے مرکبات، بشمول روسٹڈ آئرن پائیرائٹس، کی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کی مالیت 39.03 ملین ڈالر رہی۔ اس اضافے کی وجہ چینی اسٹیل ملز کی جانب سے مضبوط طلب بتائی گئی ہے۔ اس کے برعکس زنک کی برآمدات 63.04 ملین ڈالر سے گھٹ کر 55.24 ملین ڈالر رہ گئیں، جبکہ کرومیم کی برآمدات کم ہو کر 31.58 ملین ڈالر تک آ گئیں، جسے چین میں اسٹین لیس اسٹیل کی پیداوار میں کمی سے جوڑا گیا ہے۔
صنعتی ماہرین کے مطابق، چین-پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت محصولات میں نرمی اور سی پیک کے تحت ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر میں بہتری کے باعث معدنیات بدستور پاکستان کی چین کو برآمدات میں غالب رہیں گی۔
ڈائنامک انجینئرنگ اینڈ آٹومیشن (ڈی ای اے) گروپ کے بانی و سی ای او اویس میر کے مطابق، چینی خریداروں کی جانب سے تانبے اور آئرن کی مسلسل مانگ دیکھی جا رہی ہے، اور پاکستان میں پراسیسنگ کی صلاحیت کو وسعت دینے پر کام جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کا صنعتی شعبہ اب برقی گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے لیے تانبہ اور دیگر دھاتیں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی وجہ سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی پاکستان کی معدنی برآمدات کا گراف بلند رہے گا۔