قاہرہ، 14 اگست، 2025 (وام)--عرب لیگ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے خودمختار عرب ریاستوں کے کچھ حصے ضم کرنے اور نام نہاد ’گریٹر اسرائیل‘ کے قیام کے بیان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے، اور اسے عرب خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
منگل کے روز جاری کردہ اپنے باضابطہ بیان میں عرب لیگ نے واضح کیا کہ نیتن یاہو کے یہ بیانات نہ صرف عالمی قوانین اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، بلکہ یہ عرب اجتماعی قومی سلامتی کے خلاف بھی ایک سنگین چیلنج کے مترادف ہیں۔
بیان میں ان خیالات کو توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کا آئینہ دار قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ طرزِ فکر ایک شدت پسندانہ اور نوآبادیاتی سوچ سے جڑا ہوا ہے، جسے کسی صورت قبول یا برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
اسی تناظر میں مصر نے بھی بعض اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے ’گریٹر اسرائیل‘ سے متعلق بیانات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مصری وزارتِ خارجہ نے منگل کی شام جاری بیان میں ان بیانات پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں موجود اشارے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
مصر نے اسرائیلی حکومت سے ان بیانات پر سرکاری وضاحت کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ قاہرہ مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کے عزم پر بدستور قائم ہے۔