دبئی، 14 اگست 2025 (وام)--دبئی نے سال 2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے دوران 119.7 ارب درہم کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے ساتھ 4 فیصد اقتصادی نمو درج کی، جو کہ امارت کی معیشت کی مسلسل بحالی اور تنوع پذیر ترقی کا مظہر ہے۔
دبئی ڈیٹا و اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کے مطابق، اس عرصے میں انسانی صحت اور سماجی بہبود کی سرگرمیوں نے 26 فیصد کی شاندار ترقی حاصل کی، جس کی مالیت 1.9 ارب درہم رہی۔ اس شعبے نے 0.3 فیصد پوائنٹس کے ساتھ مجموعی اقتصادی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔
ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں 7.8 فیصد ترقی ہوئی، جس نے 9 ارب درہم مالیت کے ساتھ 0.6 فیصد پوائنٹس کی شراکت دی۔
اسی طرح، مالیاتی و انشورنس خدمات کی سرگرمیاں 5.9 فیصد بڑھ کر 16 ارب درہم تک پہنچ گئیں، جو 13.4 فیصد جی ڈی پی کی نمائندگی کرتی ہیں، اور 0.8 فیصد پوائنٹس سے مجموعی نمو میں اضافہ کیا۔
خوراک اور رہائش کی خدمات نے 3.4 فیصد ترقی کے ساتھ 4.9 ارب درہم کا حصہ ڈالا، جبکہ انفارمیشن و ٹیلی کمیونی کیشن کے شعبے نے 5.3 ارب درہم کی پیداوار کے ساتھ 3.2 فیصد ترقی حاصل کی۔
ہول سیل و ریٹیل ٹریڈ، جو دبئی کی معیشت میں 23 فیصد حصہ رکھتی ہے، نے پہلی سہ ماہی میں 4.5 فیصد اضافہ کے ساتھ 27.5 ارب درہم کی سطح عبور کی اور 1.03 فیصد پوائنٹس سے جی ڈی پی میں مدد فراہم کی۔
اسی دوران صنعتی پیداوار (مینوفیکچرنگ) میں 3.3 فیصد ترقی کے ساتھ 8.7 ارب درہم کا حجم ریکارڈ ہوا، جس نے 0.24 فیصد پوائنٹس کی شراکت کی۔
ٹرانسپورٹ و اسٹوریج کے شعبے نے 2 فیصد ترقی کے ساتھ 15.7 ارب درہم کی پیداوار حاصل کی، جو دبئی کے جی ڈی پی میں 13 فیصد حصہ رکھتا ہے، اور 0.27 فیصد پوائنٹس کی مدد سے معاشی نمو میں شریک رہا۔
اس شعبے میں فضائی نقل و حمل کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
اس مو قع پر دبئی ڈیٹا و اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ کے سربراہ یونس النصر نے کہا کہ، "ڈیجیٹل دور میں درست و معیاری اعداد و شمار ترقی کے رجحانات کو سمجھنے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ناگزیر ہو چکے ہیں۔"
جبکہ، ہادی بدری، سی ای او دبئی اکنامک ڈیولپمنٹ کارپوریشن (DEDC) نے کہا کہ دبئی کی قیادت کے وژن اور نجی و سرکاری شراکت داری کے سہارے معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اور D33 اقتصادی ایجنڈے کے اہداف کے قریب ہو رہی ہے۔
دبئی ڈیٹا اینڈ اسٹیٹسٹکس اسٹیبلشمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے اعداد و شمار کی ازسرِ نو درجہ بندی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق نئی ڈیٹا سیریز مرتب کر رہی ہے، تاکہ پالیسی ساز، ماہرین اور سرمایہ کار درست فیصلے کر سکیں۔