کیپ ٹاؤن، 15 اگست، 2025 (وام)--جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں "افریقہ واٹر انویسٹمنٹ سمٹ" کے دوران ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ سینیگال نے 2026ء میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آبی کانفرنس کے شریک میزبان کی حیثیت سے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس سیشن کا عنوان، "افریقہ کے آبی مستقبل کی مالی معاونت: سرمایہ کاری اور شراکت داری کے فروغ کا راستہ"تھا۔
یہ اجلاس AUDA-NEPAD، چلڈرن انویسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن (CIFF)، گلوبل واٹر پارٹنرشپ (GWP) اور گلوبل کلائمیٹ فنانس سینٹر (GCFC) کے اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، وزراء، ترقیاتی مالیاتی اداروں، نجی سرمایہ کاروں، منصوبہ سازوں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تیرہ تا پندرہ اگست منعقدہ اجلاس میں توجہ اس امر پر مرکوز رہی کہ دنیا کو 2030ء تک ماحولیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ پانی کے انفراسٹرکچر میں 6.7 ٹریلین ڈالر جبکہ 2050ء تک 22.6 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ تاہم، افریقہ اس وقت سالانہ صرف 10 سے 19 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ ہدف 30 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے پبلک-پرائیویٹ اور فلاحی شعبے کے اشتراک پر زور دیا گیا۔
یہ اجلاس جنوبی افریقہ نے اپنی جی20 صدارت کے تناظر میں منعقد کیا، جس کا مقصد براعظم افریقہ میں پائیدار ترقی، آبی تحفظ اور معاشی نمو کیلئے ماحولیاتی ہم آہنگ سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس کو 2026ء اقوامِ متحدہ آبی کانفرنس کے سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا، خاص طور پر اُس وقت جب گزشتہ ماہ کانفرنس کے چھ مکالماتی موضوعات کو باہمی اتفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا، جن میں پانی کی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، جدت اور صلاحیت سازی سرفہرست ہیں۔
اجلاس کی ابتدا میں شریک میزبانوں نے پانی میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سیاسی عزم کو لازمی قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات کے اسسٹنٹ وزیر برائے امورِ خارجہ و توانائی و پائیداری، عبداللہ بلاالہ نے کہاکہ،"193 رکن ممالک کی جانب سے حال ہی میں 2026ء آبی کانفرنس کے موضوعات پر اتفاق کے بعد، یہ اجلاس بروقت اور نہایت اہم پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے 'پانی میں سرمایہ کاری' کے موضوع کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔"
دوسری جانب، AUDA-NEPAD کی سی ای او، ناردوس بکیلے تھامس کے مطابق سستی اور قابلِ بھروسہ پانی تک رسائی افریقہ کی خوشحالی کی بنیاد ہے۔ پانی میں ہر سرمایہ کاری درحقیقت صحت، استحکام اور معیشت میں سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ شراکت داری اور جدید مالیاتی ذرائع کو فروغ دے کر افریقہ کی ممکنہ استعداد کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کیلئے سرگرمِ عمل ہے۔
بعد ازاں اجلاس کے دوران شرکاء نے چار اہم جہتوں پر توجہ مرکوز کی جن کا مقصد پانی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کو عملی شکل دینا تھا۔
سب سے پہلے، ایسے مالیاتی ماڈلز پر روشنی ڈالی گئی جو قابلِ توسیع ہوں، جن میں "بلینڈڈ فنانس"، کم شرح سود پر قرضوں کی فراہمی اور گارنٹی اسکیمز جیسے ذرائع شامل ہیں، تاکہ پانی کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مالی طور پر پائیدار بن سکیں۔
دوسری جانب، اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں کون سی پالیسی، قانونی اور تکنیکی رکاوٹیں حائل ہیں، اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے عملی حل تجویز کیے گئے۔
تیسرے پہلو کے طور پر، بینکوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبوں کو قابلِ سرمایہ کاری بنانے پر زور دیا گیا، جس کیلئے معیاری میٹرکس، ڈیٹا کی شفافیت اور منصوبوں کے انضمام کے پلیٹ فارمز کو فروغ دینے کی سفارش کی گئی۔
چوتھے اور آخری پہلو کے طور پر، 2026ء اقوامِ متحدہ آبی کانفرنس میں "پانی میں سرمایہ کاری" سے متعلق مکالماتی سیشن کے لیے سفارشات کی تشکیل پر کام کیا گیا، تاکہ کانفرنس کے ایجنڈے کو بامقصد اور قابلِ عمل بنایا جا سکے۔
CIFF افریقہ کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، رچرڈ مٹیکانیا نے کہاکہ،"افریقہ میں پانی کے مالیاتی خلا کو پُر کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ سرمایہ کاری کے ماڈلز مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر ترتیب دیئے جائیں۔ جب قومی ترجیحات کو بنیاد بنایا جائے تو سرمایہ کاری ان منصوبوں کی جانب جاتی ہے جو حقیقتاً مقامی ضرورت ہیں۔"
GCFC کی سی ای او، مرسڈیز ویلا مونسراتے نے اجلاس کے اختتامی کلمات میں کہاکہ، "ہمیں فخر ہے کہ ہم 2026ء اقوامِ متحدہ آبی کانفرنس کے پانی مالیات ٹریک میں معاونت کر رہے ہیں۔ ہم آج کی گفتگو کو ایسے عملی اقدامات میں ڈھالنے کیلئے پرعزم ہیں جو نجی اور فلاحی سرمایہ کو متحرک کریں گے اور افریقہ سمیت دیگر ابھرتی منڈیوں میں پانی کے مسائل کا حل فراہم کریں گے۔"
اس اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور سینیگال نے اپنے شفاف مشاورتی عمل کے تحت تمام متعلقہ فریقین سے رائے لی، تاکہ افریقہ میں پانی کی سرمایہ کاری کے عمل کو تیز تر بنایا جا سکے اور ان تجاویز کو 2026ء آبی کانفرنس میں پیش کیا جا سکے۔