ڈیٹا بیک اپ: سائبر خطرات کے خلاف پہلی دفاعی لائن، متحدہ عرب امارات میں آگاہی مہم کا آغاز

ابوظہبی، 17 اگست، 2025 (وام)--موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے سائبر حملوں کے تناظر میں ڈیٹا بیک اپ کو ڈیجیٹل تحفظ کی پہلی دفاعی لائن قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم معلومات کی محفوظ نقول تیار کرنے کے ذریعے تنظیمیں ڈیٹا کے ضیاع سے بچاؤ، حساس معلومات کی حفاظت، سیکیورٹی بریچز کے خطرے میں کمی اور حادثاتی یا دانستہ سائبر حملوں کے بعد تیزی سے بحالی کو یقینی بنا سکتی ہیں۔ بیک اپ صرف حفاظتی قدم ہی نہیں، بلکہ یہ قانونی ضوابط کی تعمیل، آڈٹس کی تیاری اور عوام و صارفین کو بلاتعطل سروس کی فراہمی کا ضامن بھی ہے۔

رینسم ویئر جیسے خطرناک سائبر حملوں کے خلاف بیک اپ کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ رینسم ویئر ایک ایسا بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر ہے جو صارف کے ڈیٹا کو انکرپٹ کر کے تاوان کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسی صورت میں اگر ادارے کے پاس بیک اپ موجود نہ ہو تو اسے یا تو بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے یا ہمیشہ کے لیے اپنا ڈیٹا کھونا پڑتا ہے۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق، ایسے ادارے جو مؤثر بیک اپ سسٹم سے محروم ہوں، ہر حملے پر اوسطاً AED186,000 کا مالی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اس کے برعکس، مستحکم بیک اپ پالیسی رکھنے والے ادارے حملوں کے بعد 50 فیصد زیادہ تیزی سے نظام بحال کر لیتے ہیں، جس سے ڈاؤن ٹائم اور مالی خسارہ بھی کم ہو جاتا ہے۔

ان خطرات سے نمٹنے کے لیے یو اے ای سائبر سیکیورٹی کونسل (CSC) نے "سائبر پلس" (Cyber Pulse) کے عنوان سے ایک سال بھر جاری رہنے والی مہم کا آغاز کیا ہے، جس میں ہفتہ وار پروگرامز کے ذریعے افراد اور اداروں کو مختلف سائبر خطرات سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس مہم کا ابتدائی ہفتہ "اپنا ڈیٹا بیک اپ کرنا اب ایک آپشن نہیں، بلکہ ضرورت ہے" کے نعرے کے تحت منایا گیا، جو ڈیجیٹل فضا میں بقا کے لیے بیک اپ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

کونسل نے اداروں کو روزمرہ کی بنیاد پر آپریشنل اور کسٹمر ڈیٹا کے بیک اپ کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہفتہ وار سطح پر اضافی بیک اپ ادارے کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں استحکام لاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک جامع اور سخت بیک اپ حکمتِ عملی ہر ادارے کی ڈیجیٹل سیکیورٹی پالیسی کا بنیادی حصہ ہونی چاہیے، خواہ ادارہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ کونسل نے تمام اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ ڈیٹا بیک اپ منصوبے کا جائزہ لیں، بیک اپ باقاعدگی سے کریں، اور ان کی مؤثریت کی جانچ بھی کرتے رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری بحالی ممکن ہو۔

آخر میں رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ بیک اپ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں ادارہ اپنی اہم معلومات، سسٹمز اور آپریشنز کو فوری طور پر بحال کر سکتا ہے۔ بیک اپز نہ صرف ڈیٹا کی بحالی میں مددگار ہوتے ہیں بلکہ ممکنہ فراڈ یا مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح ادارے بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں، چاہے وہ سائبر حملہ ہو یا تکنیکی ناکامی۔