وسطی افریقی جمہوریہ میں اماراتی کمپنی کا شمسی توانائی منصوبہ، 50 میگاواٹ کا پلانٹ تعمیر کے مرحلے میں داخل

بنگوئی، 18 اگست، 2025 (وام)--متحدہ عرب امارات میں قائم ریسورسز انویسٹمنٹ کمپنی "گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز" (GSU) نے وسطی افریقی جمہوریہ کے علاقے ساکائی میں 50 میگاواٹ کے شمسی توانائی (سولر فوٹو وولٹائیک) پلانٹ کی تعمیر کا باضابطہ آغاز کیا ہے، جو اس افریقی ملک میں توانائی کی دستیابی اور صاف توانائی کی منتقلی کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

یہ منصوبہ نہ صرف 3 لاکھ سے زائد گھروں کو صاف بجلی فراہم کرے گا بلکہ ہر سال 50 ہزار ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو روکنے میں بھی مددگار ہوگا۔ منصوبے میں 10 میگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) بھی شامل ہے، جس کا مقصد گرڈ میں استحکام پیدا کرنا اور بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

توانائی کی فراہمی میں بہتری کے ساتھ ساتھ یہ منصوبہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا، جو مقامی ہنر کی ترقی اور معاشی شمولیت کو فروغ دے گا۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں وسطی افریقی جمہوریہ کے صدر فاوستن آکانج توادیرا، اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور بڑے منصوبوں کے وزیر پاسکل بیدا کویاگبیلے، دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات اور گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز کی قیادت نے شرکت کی۔

گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او علی الشِمّری نے اس موقع پر کہا کہ، "یہ منصوبہ ملک بھر میں بجلی تک رسائی کو وسعت دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ہم ان علاقوں کو، جنہیں دوسرے چیلنج سمجھتے ہیں، ترقی اور پائیدار مواقع کے گیٹ وے کے طور پر دیکھتے ہیں، اور وہاں قابلِ توسیع توانائی حل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

یہ منصوبہ مارچ 2025 میں متحدہ عرب امارات اور وسطی افریقی جمہوریہ کے درمیان دستخط شدہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد اہم شعبوں میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

گلوبل ساؤتھ یوٹیلٹیز کا یہ سولر پلانٹ افریقی براعظم میں قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے منصوبوں کی ایک کڑی ہے، جو متحدہ عرب امارات کے ماحولیاتی لحاظ سے دوستانہ سرمایہ کاری اور "گلوبل ساؤتھ" ممالک کے ساتھ بامقصد اقتصادی شراکت داری کے عزم کو مزید تقویت دیتا ہے۔