اسٹاک ہوم، 19 اگست، 2025 (وام)--سویڈن اور امریکہ کے سائنس دانوں پر مشتمل ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم نے ذیابیطس ٹائپ 1 کے علاج میں غیر معمولی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔ تحقیق کاروں نے دنیا کی پہلی جینیاتی طور پر ترمیم شدہ لبلبے کے آئسلیٹ خلیات (islet cells) کی پیوندکاری کے ذریعے ایک مریض میں انسولین پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت بحال کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق مذکورہ طبی عمل کا بنیادی مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو پیوند شدہ خلیات کے خلاف ردعمل سے روکنا تھا۔ اس سے قبل ان خلیات پر 'CRISPR' ٹیکنالوجی کے ذریعے تین جینیاتی ترامیم کی گئیں۔
دو ترامیم میں ان مخصوص اینٹیجنز کی مقدار کم کی گئی جن کی مدد سے جسم کا اڈاپٹیو ٹی سیل نظام بیرونی اشیاء کو شناخت کرتا ہے، جبکہ تیسری ترمیم کے ذریعے 'CD47' نامی ایک پروٹین کی پیداوار کو بڑھایا گیا، جو پیدائشی مدافعتی خلیات کی سرگرمی کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ خلیات ایک صحت مند عطیہ دہندہ سے حاصل کیے گئے تھے اور انہیں 42 سالہ مریض کے بازو کے پٹھے میں داخل کیا گیا، جو بچپن سے ذیابیطس ٹائپ 1 کا شکار تھا۔ محققین کے مطابق 12 ہفتوں کے اندر یہ خلیات کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی موجودگی کے ردعمل میں انسولین پیدا کرنے لگے، اور یہ عمل کسی قسم کی قوت مدافعت کو دبانے والی دوا کے بغیر مکمل ہوا۔
یہ کامیابی ’’نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق کا حصہ ہے، جس میں ماہرین نے اسے ذیابیطس ٹائپ 1 کے لیے محفوظ اور مؤثر علاج کی سمت ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔
تحقیق کاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ طریقہ کار مستقبل میں دیگر امراض کے لیے اعضا اور خلیات کی پیوندکاری کو بھی ممکن اور محفوظ بنا سکتا ہے۔