حتّا میں ہائیڈرو پاور منصوبہ فعال، دبئی میں صاف توانائی کی بڑی پیش رفت

بئی، 19 اگست، 2025 (وام)--دبئی الیکٹریسٹی اینڈ واٹر اتھارٹی (دیوا) کے منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، سعید محمد الطایر نے اعلان کیا ہے کہ حتّا میں زیر تعمیر ہائیڈرو پاور منصوبے سے آزمائشی مرحلے میں بجلی کی پیداوار اور دبئی کو برآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ اعلان اُن کے دورۂ حتّا کے موقع پر سامنے آیا، جہاں وہ منصوبے کے حتمی مراحل کا جائزہ لینے پہنچے تھے۔ دی گئی تفصیلات کے مطابق اس دوران پاور اسٹیشن سے 17,921 میگا واٹ آور سے زائد بجلی پیدا کی جا چکی ہے۔

الطایر کے مطابق یہ منصوبہ 250 میگا واٹ کی پیداواری صلاحیت اور 1,500 میگا واٹ آور کی ذخیرہ گنجائش رکھتا ہے، جبکہ اس کی متوقع عمر 80 سال تک ہے۔ حتّا میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ مانگ 39 میگا واٹ ہے، جس کے باعث زائد پیداوار کو دبئی کے نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ان کے ہمراہ دیوا کے ایگزیکٹو نائب صدر برائے بجلی و پانی، ناصر لوطہ، پراجیکٹ مینیجر خلیفہ البدوی، اور دیگر متعلقہ ٹیم کے ارکان بھی موجود تھے۔

الطایر نے اس منصوبے کو دبئی کے حکمران، نائب صدر اور وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کے وژن کے عین مطابق قرار دیا، جس کا مقصد دبئی میں ہمہ گیر اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام "دبئی کلین انرجی اسٹریٹجی 2050" اور "نیٹ زیرو کاربن ایمیشن اسٹریٹجی 2050" کے اہداف کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت 2050 تک دبئی کی مجموعی توانائی پیداوار کو مکمل طور پر صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل کرنا ہے۔

دورے کے دوران الطایر نے پاور اسٹیشن کے مرکزی عمارت کا بھی معائنہ کیا جو زمین کی سطح سے 60 میٹر نیچے تعمیر کی گئی ہے۔ انہیں دو بڑے واٹر والو (110 ٹن وزن کے ہر ایک) کی کارکردگی، کمانڈ اور کنٹرول سینٹر، اور بجلی پیدا کرنے کے عملی مظاہرے سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

اس منصوبے میں شامل بالا ڈیم کا بھی معائنہ کیا گیا، جسے دیوا نے خود تعمیر کیا ہے۔ یہ ڈیم 2,10,000 مربع میٹر پانی کی سطح پر مشتمل ہے اور دو دباؤ برداشت کرنے والی کنکریٹ دیواروں پر مشتمل ہے: مرکزی دیوار کی اونچائی 72 میٹر اور لمبائی 225 میٹر ہے، جبکہ دوسری دیوار 37 میٹر بلند ہے۔ اس بالا ڈیم میں 5.3 ملین مکعب میٹر (یعنی 1,166 ملین گیلن) پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

الطایر نے واضح کیا کہ 1.42 ارب درہم کے اس منصوبے کا مقصد دبئی میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو متنوع بنانا ہے۔ اس میں سولر پینلز، مرتکز شمسی توانائی اور بیٹری اسٹوریج جیسے جدید ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔

منصوبے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں حتّا ڈیم اور بالا ڈیم میں محفوظ پانی کو توانائی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی 1.2 کلومیٹر طویل سرنگ سے گزرتا ہے، جہاں اس کی حرکی توانائی سے ٹربائنیں حرکت میں آتی ہیں اور بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بجلی صرف 90 سیکنڈ میں دیوا کے گرِڈ کو مہیا کی جا سکتی ہے۔

جب بجلی کی مانگ کم ہو، تو محمد بن راشد المکتوم سولر پارک سے حاصل ہونے والی صاف توانائی کو استعمال کرتے ہوئے پانی کو دوبارہ بالا ڈیم میں پمپ کیا جاتا ہے، یوں اس منصوبے میں نہ صرف توانائی پیدا کی جاتی ہے بلکہ ذخیرہ بھی کی جا سکتی ہے۔